- کتاب فہرست 182702
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
انتظار حسین کے مضامین
ادب اور عشق
ایک بادشاہ نے ایک ملکہ کے حسن وجمال کا شہرہ سنا اور اس پر عاشق ہو گیا۔ پھر وہ تخت وتاج چھوڑ کر اس اجنبی ملک کی طرف اس ملکہ کا دیدار کرنے چلا۔ مگر اس بادشاہ سے زیادہ کمال شہزادہ جان عالم نے دکھایا جو ایک توتے کی باتوں میں آکر انجمن آرا کا نادیدہ عاشق
انتظار حسین کا فن: متحرک ذہن کا سیال سفر
انتظار حسین اس عہد کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں سے ہیں۔ اپنے پر تاثیر تمثیلی اسلوب کے ذریعے انھوں نے اردو افسانے کو نئے فنی اور معنیاتی امکانات سے آشنا کرایا ہے اور اردو افسانے کا رشتہ بیک وقت داستان، حکایت، مذہبی روایتوں، قدیم اساطیر اور دیومالا
ناول، حقیقت نگاری اور غالب
یہ درست ہے کہ اردو میں ناول کی داغ بیل ڈپٹی نذیر احمد نے ڈالی اور مختصر افسانے کے باوا آدم منشی پریم چند ہیں۔ پھر بھی میرا یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ نئے اردو فکشن کی تاریخ غالب سے شروع ہونی چاہئے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ادب میں غالب کی ذات
گمشدہ امیر خسرو
امیر خسرو اپنے زمانے میں ایک امیر خسرو تھے۔ ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک سے کئی بن گئے۔ جامع اور سالم شخصیتوں کے ساتھ مشکل یہی تو ہوتی ہے کہ تصور میں ان کا اکٹھا سمانا مشکل ہوتا ہے۔ اُدھر آدمی بہت پھیلا ہوا تھا۔ ادھر روز بروز نظر کمزور اور تصور محدود
نیا ادب اور پرانی کہانیاں
علی گڑھ میں کیلے کا ایک باغ تھا۔ طوائفوں کی رسم تھی کہ ہر شبِ عاشور کو اس باغ میں کیلے کا پتا توڑنے جاتی تھیں۔ ایک برس شہر میں فساد ہو گیا۔ باغ کے ہندو مالک نے لٹھ بند جاٹ بٹھا دیے کہ شب عاشور کو وہاں کوئی قدم نہ رکھے۔ اس پر وہ رسم جو طوائفوں کے لئے
علامتوں کا زوال
مشہور انگریز مؤرخ مسٹر گبن نے کہا ہے کہ دنیا میں دو بڑے پہلوان گزرے ہیں۔ رستم اور حضرت علی۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ گبن نے واقعی یہ بات کہی ہے یا نہیں، اس کے راوی ہماری بستی کے ذاکر صاحب ہیں جو مجلس میں گرمی پیدا کرنے کے لئے گبن کا یہ قول سنایا کرتا تھے۔
لکھنا آج کے زمانے میں
میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعۂ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لیے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لیے ذریعۂ عزت ہے مگر
اجتماعی تہذیب اور افسانہ
ایک روز کا ذکر ہے کہ لاہور کے آسمان پر ایک دودھیا دھاری کھنچتی دکھائی دی۔ غورسے دیکھا تو بہت بلندی پر ایک گول سی چیز حرکت کرتی نظر آئی۔ یہ لمبی دودھیا دھاری اسی کی دم تھی۔ شہر میں یہ خبر اڑ گئی کہ اسٹپنک گزر رہا ہے، مگر دوسرے دن اخباروں میں ایک تردیدی
ادب کی الف، ب، ت
میری نانی اماں نے تو خیر مغلوں کا سکہ بھی دیکھا تھا مگر میں نے بچپن میں بس دو سکے دیکھے۔ ملکہ کی اکنی جو بہت گھس گئی تھی اور جارج پنجم کا روشن اور ابھری مورت والا پیسا۔ اب یہ دونوں سکے ٹکسال باہر ہیں۔ حالانکہ عظیم انسان کی اصطلاح اب بھی چالو ہے۔ اصطلاحیں
واپس کلاسیکیت کی طرف
غالب کو عام طور پر اردو کا سب سے مشکل شاعر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے زیادہ تر اشعار ناقابل فہم اور مبہم تصور کیے جاتے ہیں جو ادیبوں اور نقادوں کو گہرے تجزیاتی مطالعے پر مجبور کرتے ہیں۔ غالب کی زیادہ تر شرحیں ایسی ہیں گویا معما حل کیا جا رہا ہو۔ یہی سبب
انتظار حسین کی: جستجو کیا ہے؟
فکر معاش، ذکر بتاں، یاد رفتگاں اس مختصر حیات میں کیا کیا کرے کوئی بیسویں صدی کے نصف ثانی اور اکیسویں صدی کے شروعاتی دنوں میں اردو کے بہت سے ادیب و شاعر نے خود نوشت سوانح لکھے اور اسے شائع کرایا۔ ان میں سے زیادہ تر ان کی زندگی میں ہی شائع ہوکر مقبول
سجاد ظہیر کا نظریۂ ادب
ہمارے بزرگ خط لکھتے ہوئے بالعموم اس فقرے پر اسے تمام کرتے تھے۔ برخوردار اِس تھوڑے لکھے کو بہت سمجھ اور اپنی خیریت و حالات تفصیل سے لکھ۔ خطوں میں لکھا جانے والا یہ رسمی فقرہ اس وقت جب میں سجاد ظہیر کی تحریریں پڑھ رہا ہوں بہت بامعنی نظر آ رہا ہے۔
فسادات کے افسانوں کا پروپیگنڈائی پہلو
فسادات کے افسانوں کے بارے میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ فسادات کے افسانے ہیں یا نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان افسانوں کا موضوع فسادات ہی ہیں لیکن دقت یہ آپڑتی ہے کہ ان میں فسادات کو محض قتل و غارت گری، آتش زدگی، اور عصمت دری کے واقعات سے عبارت
ادب، گھوڑے سے گفتگو
پاکستان کے بارے میں چیخوف نے ایک افسانہ لکھا ہے۔ اگر کسی دوست کو یہ یاد ہے کہ اس افسانے کا ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں تو وہ مجھے یہ سوچ کر معاف کر دے کہ اپنے بارے میں جو بات ہوتی ہے، وہ بار بار یاد آتی ہے۔ اس افسانے میں ایک کوچوان کا بیٹا مر گیا ہے۔
ڈیڑھ بات اپنے افسانے پر
میں پناہ مانگتا ہوں ہوں اپنے اس قاری سے، جس نے ’دن‘ پڑھا اور کہا کہ کہانی تشنہ ہے کہ تحسینہ اور ضمیر کا اختلاط تو ہوا ہی نہیں اور میں پناہ مانگتا ہوں اس قاری سے جس نے ’بستی‘ پڑھا، صابرہ کو دیکھا اور سوال اٹھایا کہ انتظار حسین کے یہاں عورت کیوں نظر نہیں
رسم الخط اور پھول
بات ہے رسم الخط کی لیکن معاف کیجئے مجھے ایک اشتہاری اعلان یاد آ رہا ہے جو سن لائٹ صابون والوں کی طرف سے ہوا ہے۔ سن لائٹ کی کسی ٹکیا میں انہوں نے ایک چابی چھپاکر رکھ دی ہے، جس کسی خریدار کی ٹکیا سے یہ چابی نکلےگی اسے وہ ایک مؤثر انعام دیں گے۔ اس اعلان
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
