- کتاب فہرست 180305
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4262 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6511افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
عصمت چغتائی کے مضامین
ہنستے ہنستے
ہنستے ہنستے بے حال ہو کر نیر تخت سے نیچے لڑھک گئی۔ ’’بس کرو الله کا واسطہ‘‘ میں نے کرتہ کے دامن سے آنسوپونچھ کر خوشامد سے کہا۔ ہمارے پیٹوں میں مروڑیاں اٹھ رہی تھیں۔ سانس پھول گئی تھی۔ ہنسی چیخوں میں بدل گئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا اگر ہنسی کا یہ زناٹا
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں
عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بے چاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے۔“ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر لئے اور جو
ہیروئن
تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ ادبی تالی بجانے کے لئے بھی دو ہاتھوں کی ضرورت پڑتی ہے اور عرف عام میں ان دو ہاتھوں سے ہمارا مطلب ادب کے ہیرو اور ہیروئن سے ہے یوں تو ایسا ادب بھی ہے جس میں ہیرو اور ہیروئن نہیں وہ ادب بھی ایسا ہی ہے جیسے کسی نے ایک ہاتھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
