- کتاب فہرست 184502
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
جمشید کا تعارف
جمشید (پورا نام، محمد جمشید)
جائے پیدائش: نگینہ، بجنور، یوپی
سال پیدائش: 1958
تعلیم: ایم اے، الہ آباد یونیورسٹی (گولڈ میڈلسٹ)
ایک سال الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرار رہے اور پھر سول سروس میں،
ممبر انڈین ریلوے بورڈ اور حکومت ہند کے سکریٹری کے طور پر ریٹائرڈ،
فی الحال مرکزی انتظامی ٹریبونل کے رکن،
بنیادی طور پر جمشید انگریزی ادب کے طالب علم رہے ہیں۔ جدید اور کلاسیکی انگریزی شاعری سے گہری وابستگی۔ اردو میں فیض، فراق، ساحر، کیفی، حبیب جالب، منیر نیازی وغیرہ اور ہندی میں دشینت کمار، رام دھاری سنگھ دنکر وغیرہ ان کے زیر مطالعہ رہے ہیں۔
جمشید ایک شوقیہ شاعر و ادیب اور پیشے کے لحاظ سے سول سرونٹ ہیں۔ اپنے تجربات کی روشنی میں زندگی کی سچی حقیقتوں کو دیکھنے اور بیان کرنے کی کوششیں ان کی تخلیقات میں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرح کی روانگی ہے جو انسانی جذبات کے اظہار میں حد درجہ معاون ہے۔ ہندوستانی عام بول چال کی زبان ان کی تخلیقات کا خاصہ ہے۔
جمشید کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب 'سیاہی' جو 2018 میں شائع ہوئی اور دوسری کتاب 'ہائیکو' 2022 میں۔
'سیاہی' نظموں، غزلوں، گیتوں اور ہائیکو کا مجموعہ ہے۔ 'سیاہی' میں شامل کلام موجودہ دور کے اہم مسائل کا حقیقی آئینہ دار ہے۔
دوسری کتاب 'ہائیکو' ہے۔ اس کتاب میں ایک ہزار ہائیکو ہیں، جو ایک ہزار احساسات اور سینکڑوں سوالات، جوابات، معاہدوں، امیدوں، اقدار اور انسانی سوچ کے فلسفوں کا اظہار ہیں۔ زندگی کا شاید ہی کوئی اہم پہلو ان سے اچھوتا رہا ہو۔
ہائیکو جاپانی طرز سخن سے مشابہ، چھوٹی بحرکی مختصر نظم جو صرف تین مصرعوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ اس نظم میں ایک خیال مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں ردیف و قافیے کی قید نہیں ہوتی۔ اس طرز سخن کو اردو اور ہندی میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی، لیکن جب وقت بدلتا ہے تو اس کے ساتھ ہر چیز بدلتی ہے۔ انسانی فکر کے زاویئے بدلتے ہیں، خیالات اور رجحانات بدلتے ہیں۔ آج کا دور تیز رفتار سوشل میڈیا کا دور ہے، وقت کی تنگی ہر کوئی محسوس کرتا ہے، کچھ کہنے کے لیے چند الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں، اسی لیے یہ مختصر ظرز سخن آج کے دور سے بالکل ہم آہنگ ہے۔
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-