- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1653 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
جیم عباسی کے افسانے
زرد ہتھیلی
جنوری کے ابتدائی دن تھے اور سردی اپنے زوروں پہ تھی۔ رات کے آخری پہر میں مدرسے کی عمارت اور چار دیواری میں گھرے صحن پر گھپ اندھیرا چھایاہوا تھا۔ صرف حفّاظ کا کمرہ روشن تھا جہاں بچوں کی کثیر تعداد، رحلوں پر پاک کتاب سامنے رکھے، ایک توازن کے ساتھ جسم کو
مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی
ناک کی سیدھ میں جاتی سڑک کو کنارے کنارے کھڑے درختوں کی شاخوں نے مل کر محراب دار کر دیا تھا۔ دونوں قطار درخت ایسے گھنے اور آپس میں گتھے ہوے تھے کہ جیسے نہر کا بلند پشتہ۔ یہ کچی سڑک سیدھے جا کرگاؤں کے پاؤں کو چھوتی اور پھر دائیں طرف منھ کر کے دیگر گوٹھوں
مفتی
مفتی سجاد حسین پھر نماز پڑھاتے ہوے بھول پڑے۔ فجر کی نماز میں پہلی رکعت مکمل کرکے تشہد میں بیٹھ گئے۔ مسجد کے قدیمی نحیف وناتواں موذن گل محمد نے مفتی صاحب کو خبردار کرنے کے لیے پہلے تو اپنی بلغمی آواز میں کھنکھاریں ماریں، مگر مفتی صاحب لاتعلق و بے خبر
پانچ من گلاب کے پھول
بارہ آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔ اس کا جسم چارپائی پر بے دم پڑا تھا۔ سر داہنی جانب ڈھلکا اور بازو اوپری طرف اسی جگہ، جہاں انھیں اسے اٹھا کر رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ محمد زمان اس کے اوپر کھڑا شکنوں سے بھری پیشانی لیے کچھ پڑھتا، پھونکتا جا رہا تھا۔
نوری
عمر کا وہ حصہ ہے جس کو سارتر کا ایک قول عمدگی سے بیان کرتا ہے۔ لکھتا ہے، ’’ایک ہی دن ہے اوروہ بار بار آتا ہے۔ یہ فجر کے وقت ہمیں دیا جاتا ہے اور بوقت مغرب چھین لیا جاتا ہے۔‘‘ اب یہ بھی بات نہیں کہ عمرِ نوح میں ہوں۔ نہیں نہیں، اچھے برسوں میں ہوں، لیکن
اس وقت تو یوں لگتا ہے
سندھ پر گرمی آریائی جنگجوؤں کی طرح حملہ آور ہو چکی تھی۔ میں دوپہر کے کھانے اور قیلولے کا وقفہ لینے اپنے کوارٹر میں آیا تھا مگر گرمی کی شدت مجھے تھر کا تپتا ریگستان محسوس کروا رہی تھی۔ چھت میں لگا پنکھا بھی عیالدار ہاری کی مانند آگ اگلے جا رہا تھا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
-
