- کتاب فہرست 184416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
کوثر چاند پوری کے افسانے
حکیم جی
ہم اپنے ایک معزز دوست کے دولت خانہ پر مقیم تھے کہ شامت اعمال سے ہمیں بخار آ گیا۔ ہمارے دوست بہت پریشان ہوئے۔ اگرچہ ہم علالت سے زیادہ متاثر نہ تھے مگر ہمارے میزبان ’’جناب عظیم‘‘ کے حواس پراگندہ ہوئے جا رہے تھے۔ ممکن ہے ان کو یہ خطرہ ہو کہ میزبانی کی تکالیف
حکیم جی
ہم اپنے ایک معزز دوست کے دولت خانہ پر مقیم تھے کہ شامت اعمال سے ہمیں بخار آ گیا۔ ہمارے دوست بہت پریشان ہوئے۔ اگرچہ ہم علالت سے زیادہ متاثر نہ تھے مگر ہمارے میزبان ’’جناب عظیم‘‘ کے حواس پراگندہ ہوئے جا رہے تھے۔ ممکن ہے ان کو یہ خطرہ ہو کہ میزبانی کی تکالیف
انتقام محبت
(۱) جمیل کی عمر ابھی چودہ سال سے متجاوز نہ ہوئی تھی لیکن اس کے خیال میں جس قدر بلندی اور ارادوں میں جس درجہ رفعت تھی اس کا اندازہ مشکل سے ہو سکتا ہے۔ جمیل جس قدر حسین اور خوش اندام تھا اس سے کہیں زیادہ متین و سنجیدہ۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ
انتقام محبت
(۱) جمیل کی عمر ابھی چودہ سال سے متجاوز نہ ہوئی تھی لیکن اس کے خیال میں جس قدر بلندی اور ارادوں میں جس درجہ رفعت تھی اس کا اندازہ مشکل سے ہو سکتا ہے۔ جمیل جس قدر حسین اور خوش اندام تھا اس سے کہیں زیادہ متین و سنجیدہ۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ
زندگی اور موت کے درمیان
سیٹھ دھرم پال پر گزشتہ تین روز سے دل کے دورے پڑ رہے تھے۔ کئی مرتبہ چھاتی میں شدید درد ہو چکا تھا۔ ان کی عمر پچاس سے کچھ اوپر ہی تھی، ساری آرزوئیں پوری ہو چکی تھیں۔ سو برس تک زندہ رہنے کی خواہش کو اب وہ خود ناممکن خیال کرنے لگے تھے۔ موجودہ بیماری کے دوران
زندگی اور موت کے درمیان
سیٹھ دھرم پال پر گزشتہ تین روز سے دل کے دورے پڑ رہے تھے۔ کئی مرتبہ چھاتی میں شدید درد ہو چکا تھا۔ ان کی عمر پچاس سے کچھ اوپر ہی تھی، ساری آرزوئیں پوری ہو چکی تھیں۔ سو برس تک زندہ رہنے کی خواہش کو اب وہ خود ناممکن خیال کرنے لگے تھے۔ موجودہ بیماری کے دوران
بے زبان کا قتل
شہر میں عام طور پر ہراس پھیلا ہوا ہے۔ سڑکوں اور گلیوں پر زندگی کے بہتے ہوئے دھارے رک گئے ہیں۔ بازار بند ہے، کل ہڑتال کااعلان ہو چکا تھا۔ پوسٹر اب بھی دیواروں پر چپکے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں دو چار دوکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ لڑکے انھیں بند کرانے کی سر توڑ کوشش
بے زبان کا قتل
شہر میں عام طور پر ہراس پھیلا ہوا ہے۔ سڑکوں اور گلیوں پر زندگی کے بہتے ہوئے دھارے رک گئے ہیں۔ بازار بند ہے، کل ہڑتال کااعلان ہو چکا تھا۔ پوسٹر اب بھی دیواروں پر چپکے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں دو چار دوکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ لڑکے انھیں بند کرانے کی سر توڑ کوشش
منشی جی
خدا جنت نصیب کرے ’’منشی جی‘‘ بھی، ہمارے قصبہ میں عجیب چیز تھے۔ دوسری خصوصیات سے قطع نظر کرکے اگر صرف وضع پر ہی نظر کی جائے تو منشی جی اس زمانہ کے عجائبات میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سر پر چوگوشہ ٹوپی جو چند یا کو بھی بمشکل چھپا سکتی تھی اور جس کے دونوں طرف
منشی جی
خدا جنت نصیب کرے ’’منشی جی‘‘ بھی، ہمارے قصبہ میں عجیب چیز تھے۔ دوسری خصوصیات سے قطع نظر کرکے اگر صرف وضع پر ہی نظر کی جائے تو منشی جی اس زمانہ کے عجائبات میں داخل ہو سکتے ہیں۔ سر پر چوگوشہ ٹوپی جو چند یا کو بھی بمشکل چھپا سکتی تھی اور جس کے دونوں طرف
رام لیلا
گھر سے چلتے وقت اس نے رانی کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی پھیلی ہوئی بے رونق آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ دونوں نگاہوں میں محبت کی بیکسی اور مجبوری کا احساس تھا۔ رانی کے رخساروں پر مژمردگی چھائی ہوئی تھی، ہونٹ پپڑائے ہوئے تھے۔ چھ مہینے کا لاغر مگر خوبصورت
رام لیلا
گھر سے چلتے وقت اس نے رانی کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی پھیلی ہوئی بے رونق آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ دونوں نگاہوں میں محبت کی بیکسی اور مجبوری کا احساس تھا۔ رانی کے رخساروں پر مژمردگی چھائی ہوئی تھی، ہونٹ پپڑائے ہوئے تھے۔ چھ مہینے کا لاغر مگر خوبصورت
شیخ جی
ہم اپنے حلقہ احباب میں چپراسی کی ضرورت کا اظہار کرکے بالکل ایسے مطمئن ہو گئے جیسے کوئی صاحب پانیر میں اشتہار دے کر بےفکر ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پانیر کے صفحات میں ’’ضرورت‘‘ دیکھ کر جو صاحب بھی خالی جگہ کے لیے درخواست بھیجیں گے وہ ہر لحاظ سے مکمل
شیخ جی
ہم اپنے حلقہ احباب میں چپراسی کی ضرورت کا اظہار کرکے بالکل ایسے مطمئن ہو گئے جیسے کوئی صاحب پانیر میں اشتہار دے کر بےفکر ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پانیر کے صفحات میں ’’ضرورت‘‘ دیکھ کر جو صاحب بھی خالی جگہ کے لیے درخواست بھیجیں گے وہ ہر لحاظ سے مکمل
ملاجی
بازاری قسم کے مولوی، ملا جن کے پاس دیوبند یا مدرسہ امینیہ کی سند نہیں ہوتی، جہلا پر رعب جمانے کی غرض سے اپنی زلفیں بڑھاکر سال میں ایک مرتبہ اجمیر کا ’’حج‘‘ ضرور کرتے ہیں۔ اس سفر کے مقاصد کو مذہب، تصوف، روحانیت یا کم سے کم سیاست اور قومیت سے کوئی تعلق
ملاجی
بازاری قسم کے مولوی، ملا جن کے پاس دیوبند یا مدرسہ امینیہ کی سند نہیں ہوتی، جہلا پر رعب جمانے کی غرض سے اپنی زلفیں بڑھاکر سال میں ایک مرتبہ اجمیر کا ’’حج‘‘ ضرور کرتے ہیں۔ اس سفر کے مقاصد کو مذہب، تصوف، روحانیت یا کم سے کم سیاست اور قومیت سے کوئی تعلق
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-