- کتاب فہرست 178135
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
خالد فتح محمد کے افسانے
خود فریبی
پل پار کرنے کے بعد گلیانہ کو جانے والی سڑک پر واقع نصیرہ میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف ایک لمبی اور تنگ گلی ہے جس کے دونوں کناروں پر ’’آؤٹ آف باؤنڈ‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا جس پر عملداری کے لیے دو بجے کے بعد ملٹری پولیس کا ایک ایک سپاہی دونوں سروں پر کھڑا
ہم وہاں ہیں ،جہاں۔۔۔
وہ میرے سامنے کھڑی تھی، اس سائے کی طرح جسے ایک وجود کی ضرورت ہوتی ہے یااس موسم کی طرح جو اگلے موسم کے انتظار میں خود کوبے بس کر دیتا ہے! میں دل کا حملہ ہونے تک معمول کی زندگی جی رہا تھا، اگر سماجی معاملات کو نظر میں رکھا جائے تو وہ ایک کامیاب زندگی
موت کا نیا رنگ
رات بہت ٹھنڈی اور تاریک تھی۔ تاریک شاید اسے لیے تھی کہ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا اور ٹھنڈی اس لیے کہ اسے اگلے ہی موڑ پر اپنی موت نظر آرہی تھی۔ وہ ایک طویل عرصے سے بیمار تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچا کرتا کہ بیماری کا روگ لگنے کے بجائے وہ مر جائے تو بہتر
کریدتے ہوجواب۔۔۔
عمریں بتانا ضروری نہیں! جب ہم ملے تھے تو وہ ایک نیم کھلے پھول کی طرح تھا؛ اس کے گال سرخ اور آنکھوں میں مستی بھری شرارت تھی۔ اس کی چال میں وقار بھرا ٹھہراؤ تھا جو عموماً اس عمر میں نہیں ہوا کرتا۔وہ عمر تو ایک باڑھ کی طرح پرشور اور ہنگاموں سے بھری ہوتی
دھنک
کہا جاتا ہے کہ سانپ کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ میں اپنا گھربار چھوڑکر ایسی منزلوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا جن سے میری شناسائی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ میں بستیوں میں گیا، دریاؤں کو عبور کیا، ویرانوں میں بستیوں کو تلاشا، پہاڑوں میں سکون کو مس کرنا چاہا
سول لائنز کا بھوت بنگلہ
انگریز راج میں فوج اور سیولین رہائشی علاقے علیحدہ علیحدہ بنائے گئے اور سیولین علاقے کو سول لائن کا نام دیا گیا۔ ہر سول لائن اپنے دور کا ایک پوش رہائشی علاقہ ہوتا تھا جہاں اس دور کی اشرافیہ رہتی تھی۔ ان لوگوں میں انگریز افسر،متمول ہندو اور سکھ خاندان
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
