- کتاب فہرست 177595
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5840-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
خالدہ حسین کے افسانے
مصروف عورت
میں ایک مصروف عورت ہوں! اب میں آپ سے درخواست کروں گی کہ یہ لفظ (عورت) قوسین میں کر دیجیے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے صرف ایک مصروف وجود سمجھا جائے۔ چلیے اصولی طور پر نہیں تو صرف چند لمحوں کے لیے۔ ضرورتاً۔ عاریتاً۔ صرف اس کہانی کے لیے۔ تو میں ایک
گوالن
ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ اس کے راج میں چاروں کھونٹ امن و امان، کوئی مسئلہ نہ مشکل۔ کوئی دشمن نہ حریف، مانو شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ پس بادشاہ کا زیادہ وقت سیر و شکار میں گزرتا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک روز بادشاہ وزیر با تدبیر
آخری خواہش
’’حضور والا! آپ نے میرے استعفیٰ پیش کرنے کی وجہ دریافت کی ہے۔ اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو یہی کرتا۔ ایک ملازم چوبیس سال تک شب و روز نہایت تندہی اور دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہو۔ اس کی یوں اچانک ملازمت سےعلیحدہ ہونے کی خواہش! مگر فی
ڈولی
وہ اک شہر نور تھا۔ ایک سے بڑھ کے ایک پری زاد جھلملاتے لباس میں ادھر سے ادھر بھاگا پھرتا تھا۔ میں کسی بہت گھنے اندھیرے سے یکدم ادھر آن نکلی تھی اور حیرت سے چاروں سمت دیکھتی تھی کہ کسی بہت بڑی تقریب کا اہتمام ہے۔ وسیع پنڈال میں رنگ برنگ بتیاں روشن،
پرندہ
ہاں! میں انہیں خوب پہچانتا ہوں۔ یہ اسی کے قدموں کی چاپ ہے۔ زینے پر پوری گیارہ سیڑھیاں۔ پھر دروازے کی ہلکی سی آہٹ اور وہ قدم، نرم رواں بادلوں کے سے تیرتے قدم۔ ادھر اس دہلیز سے اندر ہوں گے اور اس کمرے کا وجود بدل جائےگا۔ میں بدل جاؤں گا۔ ایک ان دیکھا مفہوم
ایک دفعہ کا ذکر ہے
یہ ایک عورت کی کہانی ہے۔ بلکہ یہ ایک بےحد معمولی عورت کی کہانی ہے۔ اگر تم ہنکارا بھرتے رہے تو امید ہے کہ یہ رات بھر میں ختم ہو جائے ورنہ کہیں میں سناتے سناتے سو گئی تو یہ پھر میرے ذہن سے اتر جائےگی یا ہوسکتا ہے کہ میں یہ کہانی کہنے کا ارادہ ہی ترک
ہزار پایہ
میں نے دروازہ کھولا۔ اندر کے ٹھنڈے اندھیرے کے بعد، باہر کی چکاچوند اور تپش پر میں حیران رہ گیا۔ دروازہ جس کا رنگ سلیٹی اور جالی مٹیالی تھی، اسپرنگوں کی ہلکی سی آواز سے بند ہو گیا۔ اس بند دروازے کے اندر ٹنکچر آیوڈین اور اسپرٹ کی بو تھی اور چمڑے منڈھے
زوال پسند عورت
آج مکھی کے گھر ماتم ہو گیا۔ سوگواروں کا ہجوم چلا آتا ہے۔ کسی نے کہیں سے خبر پائی، کسی نےکسی مقام پہ سنا اور کھنچا چلا آیا۔ اب ایک نقطہ ہے اور اس کے گرد ایک سیاہ ہجوم۔ ایک دائرہ ایک حصار کیا ہوا۔ کس طرح ہوا۔ اچھا اسی طرح ہونا تھا۔ ایک مسلسل بھن بھن
بایاں ہاتھ
جناب والا! میں سچ کہوں گی۔ بالکل سچ۔ پورا سچ اور کچھ نہیں مگر سچ، گو کہ یہ سب کچھ کہتے ہوئے بھی میں نہیں جانتی کہ سچ کیا ہے۔ یہ تو ایک ایسی شبیہ ہے جو کوئی ایک دیکھے تو سیاہ بالکل سیاہ نظر آتی ہے۔ کوئی دوسرا دیکھے تو روشن چمکتی دھوپ ایسی روشن، تو کیا
دوسرا آدمی
یہ سیٹ بھی مجھے چانس پر ملی تھی۔ ۲۳-A میں نے بورڈنگ کارڈ پر نمبر دیکھا۔ سیٹ شیشے سے ہٹ کر تھی۔ بیٹھتے ہوئے میں نے سوچا اگر آج نہ بھی ملتی تو ایسی کوئی بات نہ تھی۔ یوں بھی فوکر میں سفر کرنا اچھا خاصا بیزارکن تھا۔ اس سے تو اچھا ہے، انسان کسی بس میں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
