- کتاب فہرست 179898
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
محفوظ الرحمٰن نامی کا تعارف
مجاہد آزادی حضرت مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؒبانی جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ اور آزاد انٹر کالج بہرائچ۔ یو۔پی گورنمنٹ کی وزارت تعلیم میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔ حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰنؒ صاحب گنج مرادآبادی کے خلیفہ مجاز حضرت حاجی عبد الرحیم ؒصاحب سے بیعت اور خلافت حاصل تھی۔آپ کی ولادت۴؍جمادی الثانی۱۳۲۹ھ مطابق ۳؍ جون ۱۹۱۱ء میں ہوئی تھی۔آپ نے جنگ آزاد ی میں اہم کردار ادا کیا۔۱۹۳۱ءمیں آپ نے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کی بنیاد رکھی اور کچھ عرصہ میں ہی نورالعلوم مجاہدین آزادی کااہم مرکز بن گیا۔۱۹۴۶ءمیں ہوئے انتخابات میں کانگریس اور جمعیتہ العلماء کے مشترکہ ٹکٹ پر بہرائچ سے فتح یاب ہوئے اور حکومت میں پارلیمنٹری سکریٹری رہے۔پرونشیل حج کمیٹی اتر پردیش کے صدر رہے۔ ’’معلم القرآن‘‘اور’’ مفتاح القرآن‘‘ وغیرہ متعدد کتب کےمصنف تھے۔ آپ کی تصنیف ’’مفتاح القرآن‘‘ کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر مقبول ہو چکا ہے ۔ہفتہ وار اخبار انصاربہرائچ کے بانی جس کے مدیران میں مورخٔ اسلام قاضی اطہر ؔ مبارک پوریؒ(متوفی۱۹۹۶ء)اورصاحب مصباح اللغات مولاناابوالفضل عبدالحفیظ بلیاویؒ(متوفی۱۹۷۱ء)شامل تھے۔آپ نے ایک“ہلال باغ”کے نام سے ایکمنصوبہ بھی بنایا تھا جس کی تائید ملک کے ممتاز ملی اور قومی رہنماؤں نے بھی کی تھی لیکن افسوس وہ منصوبہ پورا نہ کر سکے۔نورالعلوم لیدر ورکنگ اسکول کے نام سے مدرسہ میں ہی صنعتی ادارہ بھی قائم کیاتھا جس کی تائید اور ستائش پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی کی تھی ۔ہلال باغ نام سے ایک اہم منصوبہ بنایا تھا جو آپ کی وفات ہو جانے کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔۱۹۴۸ءمیں آزادانٹرکالج بہرائچ کی بنیاد ڈالی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ ممبر رہے۔آپ کی وفات۱۷؍نومبر ۱۹۶۳ءکوہوئی۔تدفین احاطہ حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ،مولوی باغ میں ہوئی۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85155156
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
