- کتاب فہرست 179910
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح614 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4863
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
مجنوں گورکھپوری کا تعارف
تخلص : 'مجنوں'
اصلی نام : احمد صدیق
پیدائش : 10 May 1904 | بستی, اتر پردیش
وفات : 04 Jun 1988 | کراچی, سندھ
LCCN :n81084181
آزادی کی دھومیں ہیں شہرے ہیں ترقی کے
ہر گام ہے پسپائی ہر وضع غلامانہ
مجنوں گورکھپوری اردو کے ممتاز ترین نقاد ، شاعر، مترجم اور افسانہ نگار ہیں ، انہوں نے ترقی پسند ادب کوتنقیدی سطح پر نظریاتی بنیادیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ مجنوں کی پیدائش ۱۰ ملکی جوت ضلع بستی میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی ۔ مجنوں کے والد فاروق دیوانہ بھی شاعر تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر تھے ۔ مجنوں کی ابتدائی تعلیم منجھر گاؤں میں ہوئی ۔ اوائل عمری میں ہی عربی ، فارسی اور ہندی میں دسترس حاصل کرلی تھی ۔ درس نظامیہ کی تکمیل کے بعد بی ، اے تک کی تعلیم گورکھپور ، علی گڑھ اور الہ آباد میں مکمل کی ۔ ۱۹۳۴ میں آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی میں اور ۱۹۳۵ میں کلکتہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم ،اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے ۔
مجنوں کی تمام شناختوں پر ان کی تنقیدی شناخت حاوی رہی انہوں نے بہت تسلسل کے ساتھ اپنے عہد کے ادبی و تنقیدی مسائل پر لکھا ۔ مجنوں کی تنقیدی کتابوں کے نام یہ ہیں ۔ ’ ادب اور زندگی ‘ ’ دوش وفردا ‘ ’ نکات مجنوں ‘ ’ شعر وغزل ‘ ’ غزل سرا ‘ ’ غالب شخص اور شاعر ‘ ’ شوپنہار ‘ ’ تاریخ جمالیات ‘ پردیسی کے خطوط ‘ ’ نقوش وافکار ‘ ۔ مجنوں کے چار افسانوی مجموعے بھی شائع ہوئے ’ خواب وخیال ‘ ’ سمن پوش ‘ ’ نقش ناہید ‘ ’ مجنوں کے افسانے ‘۔ان کے افسانے اس عہد کی یادگار ہیں جس میں نثر لطیف مقبول ہو رہی تھی اور عقلیت پسندی کے بجائے رومانیت اور جذباتیت تخلیقی ادب کا مزکزی محرک تھی۔ مجنوں نے آسکروائلڈ ، ٹالسٹائی ، اور ملٹن کی بعض تخلیقات کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ۔ مجنوں کی نظر مغربی ادبیات پر بھی گہری تھی ۔۴ جون ۱۹۸۸ کو کراچی میں انتقال ہوا ۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n81084181
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
