- کتاب فہرست 179742
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6670افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5901-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1304
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4860
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین
ایک وصیت کی تعمیل
خدا بخشے، مولوی وحید الدین سلیم بھی ایک عجیب چیز تھے۔ ایک نگینہ سمجھئے کہ برسوں نا تراشیدہ رہا۔ جب تراشا گیا، پھل نکلے، چمک بڑھی، اہل نظر میں قدر ہوئی۔ اس وقت چٹ سے ٹوٹ گیا۔ شہرت بھی غالب کے قصیدے کی طرح آج کل کسی کو راس نہیں آتی۔ ادھر نام بڑھا
ہم اور ہمارا امتحان
جناب ایڈیٹر صاحب۔ السلام علیکم ذوق مرحوم فرما گئے ہیں، اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے بعض انسان دنیا کے تاریک پہلو کو دیکھتے ہیں اور بعض روشن پہلو کو۔ ایک ہی چیز ایک کو بری معلوم ہوتی ہے اور دوسرے کو اچھی۔
ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی، کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی
اللہ اللہ! ایک وہ زمانہ تھا کہ میں اور دانی، مولوی صاحب مرحوم کی باتیں سنتے تھے۔ ان کی ہمت ہماری ہمت بڑھاتی تھی، ان کا طرز بیان ہماری تحریر کا رہبر ہوتا تھا، ان کی خوش مذاقی خود ان کو ہنساتی اور ہمارے پیٹ میں بل ڈالتی تھی، ان کی تکلیفیں خود ان کو پر
غلام
خدا بہتر جانتا ہے کہ مجھ کو کس غرض کی تکمیل اور کس خیال کو پیش نظر رکھ کر پیدا کیا گیا ہے؟ مجھے تو بظاہر اپنے یہاں آنے کی کوئی خاص وجہ نہیں معلوم ہوتی۔ ہاں اگر سرکار کے چانٹوں کے لیے کسی گدی کی، بیگم صاحبہ کے طمانچوں کے لیے کسی کلے کی، صاحب زادے صاحب
بہادر شاہ اور پھول والوں کی سیر
سعدی علیہ الرحمہ نے کیا خوب کہا ہے، رعیت چو بیخ است، سلطاں درخت درخت اے پسر، باشد از بیخ سخت یہ جڑوں ہی کی مضبوطی تھی کہ دلی کا سرسبز و شاداب چمن اگرچہ حوادث زمانہ کے ہاتھوں پامال ہو چکا تھا اور فلاکت کی بجلیوں اور باد مخالف کے جھونکوں سے سلطنت
مہینے کی پہلی تاریخ
اکثر بھلے آدمیوں کے حالات پر غور کرنے کے بعد میری یہ رائے قائم ہوئی ہے کہ میاں بیوی میں سب سے بڑا جھگڑے کا جھوپڑا تنخواہ کا حساب ہے۔ یقین مانئے کہ اگر گورنمنٹ اپنے ملازموں کے ہاتھ میں تنخواہ نہ دے کر خود ہی اپنے کسی اہل کار کے ذریعے سے مہینہ بھر کا
دیار عشق
سب ہی جانتے ہیں کہ شہید میرا دوست اور بڑا پکا دوست تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ امیر تھا اور میں غریب۔ مگر دوستی میں نہ اس نے اس بات کا کبھی خیال کیا اور نہ میں نے کبھی خدا نخواستہ اس کے روپے سے کوئی فائدہ اٹھایا۔ بلکہ میں تو یوں کہوں گا اس کی دوستی سے
یاد ایام عشرت فانی
اپر پرائمری سے کیا نکلے گویا بچوں سے نکل بڑوں میں آ گئے۔ یہاں کی دنیا ہی نئی ہے۔ جو لڑکا ہے آفت کا پر کالہ ہے، جو سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے، جو کر گزرتے ہیں اس کا اب خیال کر کے ہنسی آتی ہے۔ غرض مدرسہ نیا، ماسٹر نئے، ہم نئے، ساتھی نئے، زمین نئی، آسمان
ایک نواب صاحب کی ڈائری کے چند پراگندہ صفحے
مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، عرصے سے فکر میں تھا کہ رسالہ، نمائش کے لئے کوئی مضمون لکھوں مگر اس کے لئے فرصت چاہئے۔ مجھے دفتر سے چھٹکارا نہیں۔ چند روز ہوئے پیارے لال پنساری کے ہاں سے گھر میں کچھ سودا آیا تھا۔ میں دفتر
میری داستان
یعنی چونتیس برس کی قید با مشقت کے کچھ حالات و واقعات ہر قدم پر ہوتی ہے سیل حوادث پائے بوس یہ ہماری زندگی ہے جس پہ یہ کچھ ناز ہے تمہید جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے سب ہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ایک جیل خانہ ہے۔ اور کہتے بھی سچ ہیں۔ پہلے ہر آنے والا
نئی دہلی
رہتے رہتے، حیدرآباد اب ہمارا وطن نہیں، تو مسافر کا گھر ضرور ہو گیا ہے۔ پھر بھی کبھی نہ کبھی کسی ضرورت سے دہلی جانا ہو ہی جاتا ہے۔ اب بھی تھوڑے دن ہوئے، کچھ دنوں کے لئے دہلی گیا تھا۔ گرمی کا پورا زور تو نہ تھا، ہاں مزا آنے لگا تھا۔ لاٹ صاحب کے کچھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
