- کتاب فہرست 179888
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
محمد کیف فرشوری کا تعارف
ڈاکٹر محمد کیف فرشوری ایک نو جوان مصنف اور قلم کار ہیں۔ ان کا تعلق صوبۂ اتر پردیس کے مردم خیز خطے بدایوں کے ایک علمی خانوادے ’’فرشوری خاندان‘‘ سے ہے۔ سر سید تحریک اور سر سید کے مشن کو فروغ دینے اور اس کو تقویت پہنچانے میں یہ خانوادہ پیش پیش رہا ہے۔ مولوی ابوالحسن صدیقی، ایم۔ اے۔ او۔ کالج کے پہلے ہندوستانی پرنسپل اور سر سید کے سکریٹری، اسی خانوادے کے پروردہ تھے۔ حافظ مولوی محمد فضلِ اکرم فرشوری نے مسلم یونیورسٹی تحریک کے وفد کا بدایوں میں نہ صرف استقبال کیا، بلکہ عوام و خواص سے اور خود اپنی جانب سے بھی چندے کی معقول رقم فراہم کی، آپ کے چھوٹے بھائی مولوی حضور الحسنین نے ۱۸۹۹ء میں ایم۔ او۔ کالج سے بی۔ اے۔ کیا۔ اردو کے ممتاز محقق پروفیسر آلِ احمد سرور اسی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔
ڈاکٹر کیف کے والد رفعت العین محمد جلیل فرشوری، دانش گاہِ علی گڑھ کے فرخندہ و سرخرو طالبِ علم رہے ہیں۔ آپ اے۔ ایم۔ یو۔ اسٹوڈنٹس یونین سے بھی وابستہ رہے۔ ڈاکٹر کیف نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور یہاں سے ایم۔ اے۔، ایم۔فل۔ اور پی ایچ۔ ڈی۔ کی اسناد حاصل کیں۔ ایم۔ فل۔ اور پی ایچ۔ ڈی۔ کے مقالوں کے ارقام میں پروفیسر سید محمد امین نے ان کی سرپرستی و راہ نمائی کی۔ ڈاکٹر کیف دسمبر ۲۰۱۱ء کے یو۔جی۔سی۔ نیٹ اینڈ جے آر ایف (UGC NET & JRF) امتحان میں بھی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر کیف فی الحال شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور درس و تدریس میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب تک ان کی تین کتابیں ’’شکیل بدایونی: شخصیت اور ادبی خدمات‘‘ (مصنف)، تذکرہ ’’بہارِ بوستانِ شعرا‘‘ (مرتب و مدون) اور ’’کنز التاریخ‘‘ (مرتب و مدون) منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن کی ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی ہے اور ان کی تحقیقی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔ یہ تینوں کتابیں ’’قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی‘‘ کی اسکیم ’’مالی تعاون برائے اشاعتِ مسودات‘‘ کے تحت شائع ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر کیف کی دو اور کتابیں ’’مغنی تبسم‘‘ اور ’’آثارِ بدایوں‘‘، تصنیف و ترتیب کے مرحلے میں ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے درجن بھر سے زائد مضامین و مقالات ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ انھوںنے متعدد قومی و بین الاقوامی سمیناروں، ویبی ناروں اور کانفرنسوں میں بھی شرکت کر تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اتر پردیش اردو اکادمی نے اُنھیں ’’کنزالتاریخ‘‘ (۲۰۱۹ئ) کے لیے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ادارہ ان کے نیک اور روشن مستقبل کی دعا کرتا ہے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
