- کتاب فہرست 180336
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
محمد مجیب کے افسانے
اندھیرا
ایسے دو لوگوں کی کہانی جو دن بھر شہر میں کام کرنے کے بعد شام ڈھلے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ راستے میں چلتے ہوئے جیسے جیسے اندھیرا بڑھتا جاتا ہے ان میں سے ایک کو ڈر لگنے لگتا ہے۔ ڈر سے بچنے کے لیے وہ اپنے ساتھی سے بات چیت شروع کرتا ہے اور اس کا ساتھی اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ڈر سے جڑی ہوتی ہے۔
باغی
’’یہ کہانی ایک ریلوے اسٹیشن، اس کےاسٹیشن ماسٹر اور ٹکٹ بابو کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹیشن ماسٹر کا ماننا ہے کہ پورے ہندوستان میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ بہت کم لوگ ہی اس رشتہ کو دیکھ پاتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ اس رشتہ سے انکار کرتے ہیں وہ باغی ہیں۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق ان رشتوں کو جوڑے رکھنے میں آم کے باغ اہم رول نبھاتے ہیں۔ اگر کہیں آم کے باغ نہیں ہیں تو وہ علاقہ اور وہاں کے لوگ سرے سے ہندوستانی ہی نہیں ہے۔ کسی بھی شخص کو ہندستانی ہونے کے لیے یہاں کی تہذیب میں آم کے باغ کی اہمیت کو سمجھنا ہی ہوگا۔‘‘
خاں صاحب
’’کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے، جو بہت دین دار ہے۔ مگر اتنا کنجوس ہے کہ اس کی بیوی بیٹی بہت مفلسی میں گزارا کرتی ہیں۔ اس کی بیوی بیٹی کو اچھی پرورش کے لیے ایک عورت کے پاس چھوڑ دیتی ہے، تو بدلے میں وہ اس عورت سے پیسے بھی مانگتا ہے۔ عورت پیسے تو نہیں دیتی، ہاں ایک پڑھے لکھے لڑکے سے اس کا رشتہ طے کر دیتی ہے۔ مگر کم مہر اور نقد نہ ملنے کی وجہ سے وہ دھوکے سے اپنی بیٹی کی شادی ایک امیر اور ادھیڑ عمر کے شخص سے کرا دیتا ہے۔‘‘
کیمیا گر
یہ ترکی سے ہندوستان میں آ بسے ایک حکیم کی کہانی ہے، جو اپنے پورے خلوص اور اچھے اخلاق کے باوجود بھی یہاں کہ مٹی میں گھل مل نہیں پاتا۔ گاؤں کی ہندو آبادی اس کا پورا احترام کرتی ہے، مگر وہ انہیں کبھی اپنا محسوس نہیں کر پاتا ہے۔ پھر گاؤں میں ہیضہ پھیل جاتا ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو لیکر گاؤں چھوڑ دیتا ہے۔ رات میں اسے سپنے میں کیمیا گر دکھائی دیتا ہے، جس کے ساتھ کی گفتگو اس کے پورے نظریے کو بدل دیتی ہے اور وہ واپس گاؤں لوٹ کر لوگوں کے علاج میں لگ جاتا ہے۔
نیا مکان
’’کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو بیوی بچوں کی موت کے بعد دنیا کو ترک کر دیتا ہے اور محض عبادت گزاری کے لیے نیا مکان بنوانا شروع کر دیتا ہے۔ مکان کی تعمیر کو دیکھنے کے لیے وہ ہر روز وہاں جاتا ہے۔ ایک دن اسے وہاں ایک نوجوان عورت مزدور دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کی مسکراہٹ پر فدا ہو جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اس کے ساتھ شادی کرنے اور نئے مکان میں بس جانے کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے۔ مگر ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت ایک دوسرے شخص کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
