- کتاب فہرست 184416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
ممتاز مفتی کا تعارف
ممتاز مفتی اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے موضوع، مواد اور تکنیک کی سطح پر کئی تجربے کیے۔ ان کے افسانے خاص طور پر گمبھیر نفسیاتی مسائل کو موضوع بناتے ہیں۔ ممتاز مفتی نے ’علی پور کا ایلی ‘ کے نام سے ایک ضخیم ناول بھی لکھا ۔ اشاعت کے بعد اس کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں کیا گیا۔
ممتاز مفتی کی پیدائش گیارہ ستمبر ۱۹۰۵ کو بٹالہ ضلع گرداسپورمشرقی پنجاب میں ہوئی۔ امرتسر ، میانوالی،اور ڈیرہ غازی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر ۱۹۲۹ میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اےاور۱۹۳۳ میں سنٹرل کالج لاہور سے ایس اے وی کا امتحان پاس کیا۔ آل انڈیا ریڈیو اور ممبئی فلم انڈسٹری میں ملازم رہے۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان چلے گئے۔وہاں حکومت پاکستان کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۵ کو انتقال ہوا۔
ممتاز مفتی کے افسانوی مجموعے ان کہی ، گہماگہمی،چپ، گڑیاگھر،روغنی پتلے، کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے انشائیے بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے اور شوق سے پڑھے گئے ۔ ’غبارے ‘ کے نام سے انشائیوں کا مجموعہ شائع ہوا۔’ کیسے کیسے لوگ‘ اور ’پیاز کے چھلکے‘ کے نام سے خاکوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔عمر کے آخری برسوں میں ممتاز مفتی سفر حج پر گئے اور واپسی پر’لبیک‘ کے نام سے سفر حج کی رودار لکھی جو بے پناہ مقبول ہوئی اور ان کی کہانیوں کی طرح دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی۔موضوعات
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-