- کتاب فہرست 184502
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
ناصر نذیر فراق دہلوی کے مضامین
فراق دہلوی کے سفرنامہ کا ایک ورق
دوست دشمن کو ترے ناز نے اکثر مارا ایک ہی وار میں دونوں کو برابر مارا جب سیاح بمبئی سے جی آئی پی ریلوے میں ناسک ہوکر جبل پور، الہ آباد، بنارس کی طرف بڑھتا ہے، تونند گاؤں اسٹیشن سے اسے ریلوے کی دوسری شاخ پر سوار ہونا پڑتا ہے جو اورنگ آباد دکن کو
جہان آباد
جواب کا ہے کو تھا لاجواب تھی دہلی مگر خیال سے دیکھا تو خواب تھی دہلی ایک روز امیر تیمور صاحبقران اپنے مرکب پر سوار دارالسلطنت بخارا کی گلی کوچوں میں چکر لگا رہا تھا۔ جمعدار رکاب تھامے ساتھ تھا اور امیر پوچھتا جاتا تھا کہ اس گلی کا کیا نام ہے۔ اس
کمالات خسروی
آفاق ہاگردیدہ ام عشق بتاں و رزیدہ ام بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری سلف سے جتنے تذکرہ نویس گزرے ہیں، ان حضرات نے حضرت امیر خسرو طوطی ہند قدس سرہ العزیز کے متعلق صرف اتنا ہی لکھا ہے کہ آپ ہندی فارسی کے بڑے شاعر تھے۔ اور شاعری کی بعض صنعتوں
عاشقوں کی بات چیت
ہجر ہے آفت جان وصل بلائے دل ہے آدمی کے لئے ہر طرح غرض مشکل ہے پھول والوں کی سیر ہو چکی تھی۔ قطب صاحب کی لاٹ سے لے کر جھرنہ تک ساری مہرولی پڑی بھائیں بھائیں کر رہی تھی۔ سنسان، آدم نہ آدم زاد، جھرنہ میں پانی بھرا تھا اور جھرنہ کے کنارے ایک
زبان دانی
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے ایس ڈبلیو فیلن صاحب انسپکٹر مدارس حلقہ بہار کو اردو زبان دانی کا بڑا شوق تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ اردو زبان کی ایک ڈکشنری ایسی مرتب کرائی جائے جو یوروپین
بائیسویں رجب کے کونڈے
صحبت گل ہے فقط بلبل سے کیا بگڑی ہوئی آج کل سارے چمن کی ہے ہوا بگڑی ہوئی ۱۷؍ فروری ۱۹۲۵ء منگل کے دن صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے جھونپڑے سے نکلا اور میر تفضل حسین کی کھڑکی سے گزر کر ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کے گلشن یادگار میں پہنچا تھا۔ بنارس کی صبح تو
دلی کے پوشیدہ ارباب کمال
شاہ بھورے صاحب رحمۃ اللہ علیہ، پریڈ کے میدان میں جہاں حضرت شیخ کلیم اللہ جہان آبادی قدس سرہ العزیز کا مزارِ پُرانوار ہے، ٹھنڈی سڑک سے ادھر بالکل سیدھ میں لال قلعہ کی خندق پر ایک پرانے درخت کے سایہ میں ایک پکی قبر بنی ہوئی ہے۔ قبر کے سرہانے ایک چراغ
نواب عاقل خاں پنج ہزاری
نواب عاقل خاں صاحب مرحوم کی نسبت عوام الناس نے طرفہ بہتان باندھ رکھے ہیں۔ اور اگر ان سے پوچھئے کہ عاقل خاں ان کا نام تھا یا خطاب، اگر خطاب تھا تو ان کا نام کیا تھا، تو بس یہ کہہ کر چپکے ہوجائیں گے کہ اورنگ زیب کے عہد میں گزرے ہیں۔ اور ہمیں کچھ حال
دنیا کا پرانا طلسم
مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے انسان نے اس زمانہ میں اپنی حکمت اور سائنس کے ذریعہ ایسے ایسے مصالحہ اور سامان پیدا کئے ہیں کہ پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگا۔ ہزاروں کوس کے پلہ پر منٹ بھر میں اس کی آواز
لال قلعہ کے نیچے گولڈن ہارن
نہ گیا کوئی عدم کو، دل شاداں لے کر یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر صدیاں اور قرن ابھی نہیں گزرے، بلکہ کچھ دنوں کی بات ہے کہ ترپولیہ سے گزر کر دیائے جمنا کی سنہری شاخ لال قلعہ کی قدم بوسی کرتی ہوئی زینت المساجد کے نیچے آتی تھی۔ اور زینت
لال قعہ کی جھلک ظرافت آمیز
بہادر شاہ ابو ظفر کے عہد میں غدر سے پہلے دو داستان گو شہر میں مشہور تھے۔ بڑے عبد اللہ خاں اور چھوٹے عبد اللہ خاں۔ دونوں کے دونوں اپنے فن میں کامل تھے۔ بڑے عبد اللہ خاں اکثر حضور والا کو داستان سناتے تھے اور حضور والا پسند فرماتے تھے۔ میر کاظم علی
تغلق آباد کا سنار
اس وقت کے کھنڈر تغلق آباد کا ذکر نہیں ہے، لیکن غیاث الدین تغلق کے عہد کا تغلق آباد، جس میں ساری دہلی کی آبادی سما رہی تھی اور جو آج اس شاہجہاں آباد اور رائے سینہ میں لہر بہر دیکھتے ہیں، یہ سب تغلق آباد میں پائی جاتی تھیں۔ مگر جمنا داس سنار کی بدنصیبی
جن و پری
سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھے کیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھے مولوی تسلی صاحب غدر 1857 سے پہلے ایک بزرگ دہلی میں گزرے ہیں۔ قوم کے سید تھے۔ چشتیہ نظامیہ طریقہ اچھی طرح حاصل کیا تھا۔ دوسرا کمال ان کا شاعری تھا۔ حمد اور نعت اور منقبت کہتے
آفتاب نے شبم سے کیا کہا؟
آخر چمن سے نگہت گل کر گئی سفر خانہ بدوش کو نہیں الفت وطن کے ساتھ جب صبح کے وقت شبنم آفتاب کے سلام کے لئے حاضر ہوئی تو آفتاب نے کہا، کیوں ری ہرجائی، ہری چُگ تو رات بھر عالم سفلی کی سیر کرتی ہے، اور نئے نئے تماشے دیکھتی ہے، مگر کبھی اپنے پھوٹے منہ
اے بڑھیا میں کیسا؟
ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست زخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلے آغا قیس (اپنی بیوی الماس خانم سے) بیگم! دیکھو، میں دلی چھوڑ کر کلکتہ جارہا ہوں۔ آنے جانے میں برسوں لگیں گے، اور زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں۔ خدا جانے تم لوگوں کی شکل پھر دیکھنی نصیب ہو یا
جزیرۂ مالٹا کے دو پھول
دل آشفتگان خالِ کنج دہن کے سویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں جزیرہ مالٹا فی زمانہ اس سبب سے مشہور ہے کہ یورپ سے ہندوستان آنے جانے والے جہازوں کا بندرگاہ ہے۔ اس پر گورنمنٹ عالیہ برطانیہ کا قبضہ ہے۔ دراصل مالٹا جزائر کے مجموعہ کا نام ہے۔ جس میں گوز
چار بیٹیاں
حسین بیگ قندھاری ہمایوں کی فوج میں داخل ہوکر ہندوستان میں آیا، اور خاک دامن گیر نے اس کو قندھار جانے نہ دیا۔ اپنے دیس میں بھی وہ کھیتی باڑی کرتا تھا، اور یہاں آکر بھی اس نے ہتیار کھول ہل بیل لے لئے۔ رتن پور ضلع بلند شہر میں چار بیگھہ زمین مول لے
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-