- کتاب فہرست 188873
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم392 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1785 صحت109 تاریخ3608طنز و مزاح758 صحافت220 زبان و ادب1974 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5062 سیاسی376 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7442افسانہ3035 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب570 ترجمہ4622خواتین کی تحریریں6309-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1396
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت613
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
نگار عظیم کے افسانے
عمارت
پھولوں سے لدی بگن وِلا کی بیلوں نے دیوار میں نسب نیم پلیٹ کو تقریباً ڈھک لیا تھا۔ میں نے ذرا جھک کر نیم پلیٹ پڑھنے کی کوشش کی۔ کرنل قیصر بیگ C-11۔ پھر میں نے اپنی فہرست میں درج نام کی تصدیق کرتے ہوئے کال بیل پر انگلی رکھ دی اور کچھ فاصلے سے کھڑے ہوکر
عکس
اف میرے خدا۔ یہ میں نے کیا دیکھ لیا... میرا وجود پارہ پارہ ہوکر لرزنے لگا ہے۔ دل کی گھٹن بڑھتی ہی جا رہی ہے... کاش میں نے یہ سب کچھ نہ دیکھا ہوتا۔ بچپن سے لے کر جوانی کے آخری لمحوں تک کی یادیں میرے ذہن کو جھنجھوڑنے لگیں۔ اس وقت میں کوئی چھ برس کی تھی۔
ایک زندہ کہانی
میری زبان پر آیا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ نوری نے جھپٹ کر اتنی زور سے میرا منہ بند کیا کہ میں چھٹپٹا گئی۔ اگروہ کچھ دیر اور دبائے رکھتی تو یقیناً میری آنکھیں باہر آ جاتیں۔ نوری واقعی بہت خوبصورت تھی۔ ذہین اور بے باک۔ فیصلے کرنے میں ماہر
لمس
موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ بارش کی مندمند پھوہار نے موسم میں مزید تازگی بھر دی تھی۔ لیکن میرے اندر کے کسیلے پن نے اس روح پرور موسم کے لطف سے مجھے محروم رکھا۔ بس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ اسے اتفاق کہیے یا موسم کا کرم کہ بس میں سواریاں بہت کم
احساس زیاں
نکاح کے دو بول کیا پڑھائے گئے بس ہر ایک یہی سوچ لیتا ہے کہ زندگی بھر کا سودا ہو گیا۔ ان دو لفظوں سے زندگی بھر کے لیے دو دِل اور دو جسم بندھ گئے۔ اور لڑکی کے لیے تو اب کسی پرائے یعنی دوسرے مرد کی طرف دیکھنا بھی حرام۔ پسند نا پسند سب ایک طرف جو ہے جیسا
مادری زبان
دروازے کے ادھر ادھر نظر ڈالی گھنٹی کا کوئی سوئچ نہیں تھا۔ لہٰذا ہولے سے دروازہ کھٹکھٹایا... کوئی آواز نہیں... پھر دوبارہ اور زور سے... اور زور سے...؟ ’’کون ہے‘‘؟... چیختی ہوئی ایک آواز سماعت سے ٹکرائی۔ آواز اوپر سے آئی تھی۔ میں نے گردن اٹھائی
تعلق
کمرہ اس وقت خالی تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنا بیگ اٹھایا۔ باہر نکلنا ہی چاہتی تھی کہ وہ پھر نازل ہو گیا۔ ’’ارے۔ کہاں جارہی ہو؟؟‘‘ ’’جی۔۔۔ جی گھر۔۔۔ بہت دیر ہو جائےگی۔ یہ شبوا بھی تک نہیں آئی؟؟‘‘ اس نے بے چینی ظاہر کی۔ ’’ہاں ہاں آ جائےگی۔ چلی جانا۔
گہن
ستارہ چلی گئی اور نازش کا جیسے سارا سکون لے گئی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسے نہ صرف ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا بلکہ ذلیل بھی ہوئی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا وجود دھنی ہوئی روئی کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر اڑ رہا ہے۔ ستارہ ایک رنڈی کی اولاد اسے نہ
اے گردش دوراں
پھولپور واقعہ پھولپور تھا۔ جمناندی کے کنارے بسے اس چھوٹے سے قصبے میں میلوں تک رنگ برنگے خوشنما گلابوں کی فصلیں لہلہاتیں، پرندے چہچہاتے، قمریاں گیت گاتیں، تتلیاں رقص کرتیں اور بچے ان تتلیوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے بچپن سے جوانی تک کا سفر یوں ہی طے کر لیتے۔ پھول
حطّی کلمن سعفص
کئی دن کی خاموشی کے بعد ہچکیوں نے میرے گلے میں پھر ڈیرا ڈال لیا تھا۔ پیٹ دکھنے لگا تھا۔ سینے پر بھاری پن محسوس ہونے لگا تھا۔ خشک ہوتے گلے کی رگوں کو پانی کے گھونٹ اتار کر میں بار بار تر کرتی۔ شروع شروع میں تو اس طرف میری توجہ ہی نہیں گئی کیونکہ دس
طنابیں
جب ذرینہ کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا تو وہ نو برس کی تھی۔ دو وقت کی روٹی کے لیے اس کی ماں شکیلہ کو کئی گھروں کے برتن مانجھنا پڑتے، لیکن کرایہ نہ دے سکنے کی وجہ سے سر چھپانے کی جگہ چھن گئی تھی۔ ماں کو در در بھٹکتے روتے سسکتے دیکھ دیکھ کر ذریعہ کا بچپن
ایکوریم
پہلی مرتبہ اس سکھ سے آشنا ہوئی تو سرشار ہو گئی۔ پیار، محبت، دلجوئی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ... جو ہم نے پچیس برسوں میں اسے دیا تھا شاید وہ پچیس دن میں ہی لوٹا دینا چاہتا تھا۔ ممکن ہے یہ پچھلے چھ ماہ کی جدائی کا اثر ہو۔ دراصل بیٹے کو ایک اچھی فرم
میڈی ٹیشن
ہوٹل کے نزدیک چہل قدمی کرتے ہوئے میری نگاہیں اچانک آشرم پر پڑیں۔ جس سڑک پر یہ آشرم تھا بالکل اس کے دوسری جانب ایک فٹ پاتھ پر جوتے اتارنے کی جگہ تھی۔ میں نے دیکھا لوگ اپنے جوتے اتار کر ملازم کو تھماتے سڑک کراس کرتے اور آشرم کے اندر داخل ہو جاتے۔ میں
مردار
وہ دروازہ کھول کر گرتا پڑتا اندر داخل ہوا اور ڈھیر ہو گیا۔ وہ ہمیشہ کی طرح نشے میں تھا۔ لیکن اس مرتبہ اس کے چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ وہ رو رہا تھا۔ تڑپ رہا تھا۔ اس کا پورا وجود درد و کرب سے لرز رہا تھا۔ شاید کئی راتوں سے سویا بھی نہیں تھا۔ بال بے
ابورشن
آسمان سے بادل صاف ہو چکے تھے۔ ہوا میں خنکی برقرار تھی۔ پھولوں اور پھلدار درختوں کی خوشبو ہوا میں ضم ہوکر نشہ آور ہوگئی تھی۔ جسم کا انگ انگ رومان سے بھر اٹھا تھا۔ کال بیل بج اٹھی۔۔۔ دھوبی؟۔۔۔ اف۔۔۔ دھوبی کو بھی اسی وقت آنا تھا۔۔۔؟ منظر بدل گیا۔۔۔ کتنا
پناہ گاہ
مدراس سینٹرل اسٹیشن کے نزدیک پوناملی ہائی روڈ پر ہوٹل نیلامبر کی پانچویں منزل پر ہمارا قیام تھا۔ کالج کے پندرہ لڑکے لڑکیوں کو میں اور میرے دو کلیگ ویبھو اور ابھیمنیو ایجوکیشنل ٹور پر لائے تھے۔ تمام لڑکے لڑکیاں اور میرے دونوں ساتھی اسی فلور پر پانچ
لمحہ
دروازہ کھولا تو اسے یوں سامنے کھڑا دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ ’تم؟‘ ’کیا اندر آ سکتا ہوں؟‘ ’ہاں ہاں آؤ۔‘ ایک ہی نظر میں اس نے گھر کا جائزہ لیا۔ اپنے بریف کیس کو ایک طرف رکھا اور صوفے پر اس طرح دراز ہوا جیسے مانوتھک کر چور چور ہو رہا ہو۔
بڑی فیملی
ایک شخص کے انتالیس کالم پورے کرنے کے بعد بیوی سات بچوں، دو بہوؤں، ان کے تین بچوں اور دادی سمیت تمام تفصیلات درج کرتے کرتے تقریباً ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔ پچھلے پانچ گھنٹوں سے میں فیلڈ میں تھی اور اب بری طرح تھک چکی تھی۔ سامان سمیٹتے ہوئے باہر نکلی تو
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
