- کتاب فہرست 184416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
قیصری بیگم کا تعارف
قیصری بیگم (1888-1976) دہلی کے ایک ممتاز سیاسی اور ادبی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے نانا، ڈپٹی نذیر احمد (1831-1912) کو اردو زبان کا پہلا ناول نگار مانا جاتا ہے۔ قیصری بیگم نے اپنی زندگی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بسر کی اور کمیونٹی سروس میں ہمیشہ گہری دلچسپی لی، خاص طور پر خواتین کی تعلیم کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔
1928 میں، جب وہ جوان تھیں، تو انہیں حیدرآباد کی نمائندہ کے طور پر دہلی میں منعقدہ آل انڈیا ویمنز کانفرنس (All India Women's Conference) میں شرکت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس تاریخی کانفرنس میں خواتین کے حقوق، کم عمری کی شادی، اور طلاق جیسے اہم مسائل پر بحث کی گئی۔
قیصری بیگم نے "کتابِ زندگی" کے نام سے ایک خود نوشت بھی تحریر کی، جو ان کی زندگی کے کاموں کو بیان کرتی ہے اور آج بھی بے شمار قارئین کے درمیان مقبول ہے۔ یہ خود نوشت قارئین کو قیصری بیگم کے دہلی اور حیدرآباد کے درمیان سفروں اور حج کے تجربات سے آشنا کرتی ہے، جبکہ گھریلو زندگی کے سوالات اور خدشات پر بھی خاص توجہ دیتی ہے۔
یہ تحریریں کبھی بھی اشاعت یا وسیع پیمانے پر پھیلانے کے ارادے سے نہیں لکھی گئیں، بلکہ ان کا بنیادی مقصد صرف ان کے خاندان کے افراد کے لیے تھا۔ کل 260 مضامین سات مختلف نوٹ بکس میں جمع کیے گئے، جنہیں قیصری بیگم کی بیٹی محمدی بیگم نے محفوظ رکھا۔
قیصری بیگم کے انتقال سے پہلے، ان کے بھائی کے پوتے شان الحق حقّی (1917-2005) نے ان کے مضامین کو ادبی جریدے "اردونامہ" میں شائع کیا، جس کی وجہ سے یہ تحریریں بہت مقبول ہوئیں۔
جب قیصری بیگم کو معلوم ہوا کہ ان کی ذاتی تحریریں ایک بڑی تعداد میں قارئین تک پہنچ چکی ہیں، تو وہ بے حد خوش ہوئیں۔ تاہم، یہ سلسلہ اچانک ختم ہو گیا جب "اردونامہ" 1976 میں بند کر دیا گیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد قیصری بیگم کا انتقال ہو گیا۔
ان کے کام کو 2003 میں "کتابِ زندگی" کے طور پر شائع کیا گیا، جسے ان کی نواسی زہرہ مسرور احمد نے مکمل طور پر ایڈٹ کر کے شائع کیا.مددگار لنک : | https://accessingmuslimlives.org/profile/qaisari-begum/ | https://images.dawn.com/news/1182866
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-