- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
قمر احسن کے افسانے
کوڑھی کی مٹھی میں سور کی ہڈی
سیٹھ حبیب اصولوں کے سختی سے پابند تھے اور بہت محتاط آدمی تھے۔ مثلاً ان کا ایک اصول یہ تھا کہ وہ صبح چار بج کر بیس منٹ پر بیدار ہوتے تھے۔ اب خواہ کچھ بھی ہو لیکن وہ اسی وقت بستر سے اٹھ جانا ہی پسند کرتے تھے۔ یا ان کا یہ اصول تھا کہ کوئی بھی شخص بغیر
ہڈی کی مٹھی میں سور کا کوڑھی
پہلے تو غلام نے سواری پر سے بھاری بھرکم قدیم وضع کے فرنیچر اتارنا شروع کیے اور اس قدیم گوتھک طرز کے مکان کے صدر دروازہ میں داخل ہوکر نظروں سے غائب ہوتا رہا۔ پھر اس نے باہر نکل کر بڑی مشکلوں سے ایک لمبا سا سیاہ رنگ کا آنبوس کا تابوت سواری سے کھینچ کر
گردباد اور پیلیا
جب ایک عیسوی سال میں دو بار محرم پڑتا ہے تو انقلاب ضرور آتا ہے۔ ٹھاکر فتح علی خاں اپنی پیلی کوٹھی میں شیشم کی پالش شدہ قدیم ارسٹو کریٹک مسہری سے ٹیک لگائے ہوئے بدبدائے۔ سفید مسہری کی چادر سے ان کی نظریں پھسل کر فرش کی سفید چاندنی اور سفید گاؤ تکیوں
اسپ کشت مات (۱)
آفس سے آکر اس نے ادھ میلی کیتلی میں پانی، شکر، دودھ اور چائے کی پتی سب ایک ساتھ ملاکر اسٹو پر رکھ دیا اور کپڑے تبدیل کر کے ملگجے بستر پر لیٹ رہا۔ فائل نمبر ۷۹؍۱۰؍۳ کا ریمائنڈر، فسادات کی رپورٹ کا پروفارما، نیلم کے خط کا جواب اور ابا کو خط، ایمی
آخری تنہا درخت
بہت زیادہ سیاہ رات کا شکنجہ اسے بستر پر جکڑے ہوئے تھا۔ سامنے بہت اونچی محراب اور اس کے بعد ایک مدور فصیل، فصیل سے متصل لمحہ بہ لمحہ بڑھتے پھیلتے ہوئے بھیانک درخت کانٹے دار مہیب۔۔۔ اور دو بہت چمکیلی سیاہ آنکھیں۔۔۔ غلیظ اور ہیبت ناک۔ وہ ایک معمول کی
لوٹتے قدموں کے سائے
اس دن گڑ کھیت کا میلہ تھا۔ مجھے بس اتنا ہوش تھا کہ جب میں لوٹ رہا تھا تو میرے قدموں کے طویل سائے درختوں کی اونچی ٹہنوں پر کپکپا رہے تھے اور میں نے اپنے ساتھی سے کہا تھا کہ لوٹتے ہوئے قدموں کے سائے کتنے۔۔۔ طویل ہو جاتے ہیں کہ انہیں درختوں کی اونچی
بریدہ جسموں کو چمکانے والا بوڑھا
چٹانوں پر سہ پہر کی سنہری دھوپ پھیل چکی تھی۔ پہاڑی گھاس کے چھوٹے چھوٹے تختوں میں کیڑے پھدک رہے تھے۔ پاس کے ایک چھوٹے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک کوا مسلسل چیخ رہا تھا۔ دور سے ناہموار راستوں پر اچکتا پھلانگتا ایک بوڑھا راستہ میں کچھ تلاش کرتا چلا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
