- کتاب فہرست 178836
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3277طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
قرۃ العین خرم ہاشمی کے افسانے
بارش کے اس پار
کن من کن من برستی بوندیں اسے اچھی لگتیں تھیں مگر۔۔۔! تیز موسلا دھار بارش اسے عجیب سی بے چینی میں مبتلا کر دیتی تھیں۔ وہ ایک توانا مرد تھا۔ باہمت اور جوان۔۔۔! اپنے حوصلوں سے پہاڑ کو مٹی میں بدل دینے والا۔۔۔! وہ آسمان سے برستے پانی سے ڈرتا نہیں
یاد کا بوڑھا شجر
’’ابا میاں کہاں ہیں؟'' صبا نے آہستگی سے پوچھا تھا کیونکہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔ ’‘آ گیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئ دنوں سے شدید بیمار ہیں۔ ڈاکڑ نے انھیں مکمل بیڈ ریسٹ بتایا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سُنتے
لکیریں
اجواد اپنے کو لیگ مبشر سید کے ساتھ باتیں کرتا ہوا وہاں سے گزر رہا تھا۔ اجواد کا تعلق ایک شو آرگنایزر گروپ سے تھا۔ موہنجوڑرو میں انھیں ایک شو آرگنایز کروانا تھا۔ اسی وجہ سے پچھلے کچھ دنوں سے کھنڈرات میں عجیب میلہ کا سماں تھا۔ تاریخی ورثہ کو خوبصوتی
رمزمحبت
اس نے ڈاکٹر مارتھا کے کلینک سے باہر نکل کر ایک نظر ہر طرف بچھی برف کی سفید چادر پر ڈالی اور تیز تیز قدم اٹھاتی سڑک پہ چلتے اجنبی ہجو م کا حصہ بن گئی! پردیس کی فضاؤں میں گھلی اجنبیت اور ان سرد ہواؤں میں لپٹا، وجود کو تھپکتا تنہائی کا دکھ۔۔۔ جب اسے
بابا رنگوں والا
وہ ایک خوبصورات شھر تھا رنگوں تتلیوں جگنووؤں سے بھرا ہوا وہاں خونصورات پھول تھے اور ان کی دلفریب خوشبو سے ماحول معطر رہتا تھا۔ عبداللہ کو یاد ہے۔ وہ بہت چھوٹا تھا رنگوں اور تتلیوں کے اسی شہر میں رہتا تھا نام اور جگہ تو اسے یاد نہں تھی۔ مگر آج بڑھاپے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
