- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
رئیس احمد جعفری کا تعارف
شناخت: صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار
سید رئیس احمد جعفری ندوی (پیدائش: بقول مالک رام 1907، لکھیم پور، اتر پردیش) برصغیر کے ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے صحافت، تاریخ نگاری، اقبالیات اور سوانح نویسی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اصل وطن سیتاپور تھا اور ان کا خاندان علاقہ کے معززین میں شمار ہوتا تھا۔ کم عمری میں والد سید ناظر حسین کے انتقال کے بعد ان کی پرورش نانھیال خیرآباد میں ہوئی، ان کے نانا سید نیاز احمد اردو کے مشہور شاعر ریاض خیرآبادی کے چھوٹے بھائی تھے، جس نے ان کی علمی و ادبی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
سید رئیس احمد جعفری نے ندوۃ العلماء، لکھنؤ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے مضمون نگاری کا ذوق پیدا ہو گیا اور ان کی تحریریں اخبارات و جرائد میں شائع ہونے لگیں۔ ان کی پہلی اہم تصنیف ’’سیرتِ محمد علی‘‘ تھی، جو کم عمری کے باوجود اپنے موضوع پر ایک مستند اور معیاری کتاب سمجھی جاتی ہے۔
1934ء میں مولانا شوکت علی کی دعوت پر وہ بمبئی گئے اور روزنامہ خلافت کے مدیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں روزنامہ ہندوستان اور پھر روزنامہ انقلاب، لاہور کی ادارت سنبھالی، جہاں انھوں نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ اسی سیاسی و صحافتی کردار کے باعث قیامِ پاکستان کے بعد انھیں ترکِ وطن پر مجبور ہونا پڑا۔
1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی سے روزنامہ خورشید جاری کیا۔ بعد ازاں ماہنامہ ریاض، روزنامہ زمیندار (لاہور) اور ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور سے وابستگی اختیار کی، جہاں وہ رسالہ ثقافت کے مدیر بھی رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں کچھ عرصہ روزنامہ انجام، کراچی کی ادارت بھی کی۔
سید رئیس احمد جعفری ندوی کی تصانیف، تالیفات اور تراجم کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ ان کی مشہور کتابوں میں اقبال اور عشقِ رسولؐ، علی برادران، اقبال اور سیاستِ ملی، واجد علی شاہ اور ان کا عہد، تاریخِ تصوف، تاریخِ دولتِ فاطمیہ اور بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد شامل ہیں۔ وہ علمی حلقوں کے ساتھ ساتھ اپنی پچاسوں مقبول ناولوں کی وجہ سےعوام میں بھی یکساں مقبول تھے۔
وفات: 27 اکتوبر 1968ء، لاہور
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1%DB%8C | https://www.raeesahmedjafri.org
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
