Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rais Ahmad Jafri's Photo'

رئیس احمد جعفری

1907 - 1968 | کراچی, پاکستان

مقبول ناول نگار، صحافی، مترجم، سوانح نگار

مقبول ناول نگار، صحافی، مترجم، سوانح نگار

رئیس احمد جعفری کا تعارف

تخلص : 'رئیس'

اصلی نام : سید رئیس احمد جعفری

پیدائش :لکھیم پور کھیری, اتر پردیش

وفات : 27 Oct 1968 | کراچی, سندھ

شناخت: صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار

سید رئیس احمد جعفری ندوی (پیدائش: بقول مالک رام 1907، لکھیم پور، اتر پردیش) برصغیر کے ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے صحافت، تاریخ نگاری، اقبالیات اور سوانح نویسی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اصل وطن سیتاپور تھا اور ان کا خاندان علاقہ کے معززین میں شمار ہوتا تھا۔ کم عمری میں والد سید ناظر حسین کے انتقال کے بعد ان کی پرورش نانھیال خیرآباد میں ہوئی، ان کے نانا سید نیاز احمد اردو کے مشہور شاعر ریاض خیرآبادی کے چھوٹے بھائی تھے، جس نے ان کی علمی و ادبی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

سید رئیس احمد جعفری نے ندوۃ العلماء، لکھنؤ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے مضمون نگاری کا ذوق پیدا ہو گیا اور ان کی تحریریں اخبارات و جرائد میں شائع ہونے لگیں۔ ان کی پہلی اہم تصنیف ’’سیرتِ محمد علی‘‘ تھی، جو کم عمری کے باوجود اپنے موضوع پر ایک مستند اور معیاری کتاب سمجھی جاتی ہے۔

1934ء میں مولانا شوکت علی کی دعوت پر وہ بمبئی گئے اور روزنامہ خلافت کے مدیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں روزنامہ ہندوستان اور پھر روزنامہ انقلاب، لاہور کی ادارت سنبھالی، جہاں انھوں نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ اسی سیاسی و صحافتی کردار کے باعث قیامِ پاکستان کے بعد انھیں ترکِ وطن پر مجبور ہونا پڑا۔

1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی سے روزنامہ خورشید جاری کیا۔ بعد ازاں ماہنامہ ریاض، روزنامہ زمیندار (لاہور) اور ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور سے وابستگی اختیار کی، جہاں وہ رسالہ ثقافت کے مدیر بھی رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں کچھ عرصہ روزنامہ انجام، کراچی کی ادارت بھی کی۔

سید رئیس احمد جعفری ندوی کی تصانیف، تالیفات اور تراجم کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ ان کی مشہور کتابوں میں اقبال اور عشقِ رسولؐ، علی برادران، اقبال اور سیاستِ ملی، واجد علی شاہ اور ان کا عہد، تاریخِ تصوف، تاریخِ دولتِ فاطمیہ اور بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد شامل ہیں۔ وہ علمی حلقوں کے ساتھ ساتھ اپنی پچاسوں مقبول ناولوں کی وجہ سےعوام میں بھی یکساں مقبول تھے۔

وفات: 27 اکتوبر 1968ء، لاہور

 

Recitation

بولیے