- کتاب فہرست 179742
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1990
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی29 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6670افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5901-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1304
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ریاض توحیدی کے افسانے
ماں
وہ اوندھے منہ زمین پر گر کر ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ جن بچوں کے ساتھ وہ کھیل کو د میں مشغول تھا وہ دوڑتے ہوئے اس کے گھر گئے اور اس کی ماں کو ساتھ لے آئے۔ ماں نے جب روتے روتے اپنے دوپٹے سے اس کے جھاگ بھرے منھ کو صاف کیا تو وہ تھوڑی دیر بعد پھر سے اپنے حواس
کالے پیڑوں کا جنگل
سورج ڈوبتے ہی بستی کے اندر کالے پیڑوں کا جنگل نمودار ہو جاتا تھا۔ ان کالے پیڑوں کی آدمی خور شاخیں، آدم زاد کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی آگ کے شعلے بر سانا شروع کر دیتی تھیں اور جب اندھیری رات کا بھیانک سایہ بستی کے طول و عرض میں پھیل جاتا تو زندہ انسانوں
زہریلے ناخدا
اس کی جوانی۔۔۔ زندگی اور موت کی آخری کشمکش میں مبتلا تھی۔ اسپتال میں خود کو پاکر اسے یک گونہ سکون محسوس ہوا لیکن جسم میں پھیل رہے زہر کو وہ کیسے روک پاتی۔ وہ حادثات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی وجہ سے آج وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ وہ ایک
مینٹل ہاسپٹل
آوارہ کتوں کی ہڑبونگ نے بستی میں دہشت پھیلا رکھی تھی۔ یہ کتے کسی بھی گلی، کسی بھی راستے پر بلاخوف انسانوں پر حملہ کر دیتے۔ دوسرے تیسرے روز کوئی نہ کوئی آدمی ان کی کاٹ سے ضرور زخمی ہو جاتا تھا۔ بچوں کی نفسیات آوارہ کتوں کے خوف سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو
ٹوٹتی جوانیاں
پبلک سروس کمیشن کی طرف سے سلیکشن لسٹ، جو ایک مقامی نیوز پیپر میں مشتہر ہو اتھا، میں اپنا نام دیکھ کر میں بے حد خوش ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد میری پوسٹنگ شہر سے باہر وادی کے ایک دور افتادہ علاقے گلشن آباد کی گئی۔ ویسے تو میری خواہش شہر میں تھی لیکن میں پھر
کالے دیوؤں کا سایہ
غروب آفتاب کے ساتھ ہی کالے دیوؤں کا خوفناک سایہ بستی کی خاموش فضا پر آندھی بن کر چھا جاتا اور شل زدہ ذہنوں میں ماتم کی دھنیں بجنا شروع ہو جاتیں۔ خوف کا سائرن بجتے ہی خون آلودہ دلوں کی دہشت ناک لہروں سے غمگین سوچوں میں وحشت ناک ارتعا ش پیدا ہو جاتا۔ معصوم
تیسری جنگ عظیم سے قبل
وہ سنگ دل گلچیں اپنے پر فریب محدّب شیشوں کی زہریلی شاعوں سے گل زمین کے لالہ فام پھولوں کو اپنا نشانہ بنا رہے تھے۔ چمنستان کے شاہین فطرت پرندے، ان مردہ خور کر گسوں کی بدطینت خصلت بھانپ گئے اور اپنے چمنستان کو ان مردہ خوروں کی پروازوں سے آزاد کرانے کے
سفید تابوت
کالی کوٹھری کے اندھیرے تہہ خانے میں وہ جب اپنے بکھرے وجود کو سمیٹنے کی کوشش کرتا تو اندھیرے عالم کے خوفناک مناظر اس کی نیند پر شبخون مارنا شروع کر دیتے اور اس کے ذہن میں شعور، لاشعور اور تحت شعور کے بکھرے خیالات کے درمیاں تصادم شروع ہو جاتا۔ بھیانک
مصلوب دھڑکنیں
شتر بےمہار کی گھنٹی کی ڈراونی آواز نے پھر اس کے کان کے پردوں کو پھاڑتے ہوئے، اس کی خوف زدہ نیند پر شنجون مارکر، اس کے سکون بھرے گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالا۔ شب دیجور کے بھیانک سائے میں ’’ماں! ان ظالموں نے اسے گولی مار دی۔۔۔ وہ زخمی حالت میں سڑک پر ان سے
خوف
اس کے وجود پر خوف کا بھیانک سایہ چھایا ہوا تھا۔ کپکپی طاری ہوتے ہی وہ لاشعوری کے عالم میں تھرتھراتے ہاتھ سے اپنا گال تھام لیتا۔ اس کی نفسیات پر اس خوف ناک زہریلے جنگلی سانپ کی دہشت اثر انداز ہوچکی تھی۔ خوف نے اس کی سوچ پر ایک حُلیہ نقش کیا تھا اور جب
ہارٹ اٹیک
سرما کا موسم تھا۔ زبردست برفباری ہورہی تھی۔ شام کے پانچ بج چکے تھے اور شہر سے دیہات کی طرف جانے والی یہ آخری ٹیکسی تھی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اسے وہاں پچاس برس کا ایک موٹا تازہ شخص کالے رنگ کا ایمپورٹڈ اورکوٹ پہنے نظر آیا۔ اس نے اپنے دستا نے نکال کر اپنے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1990
-
