- کتاب فہرست 182673
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
صبا ممتاز بانو کے افسانے
آؤ پیار کریں
وہ چوہدری صاحب کی رہنمائی میں ایک کھلے بازار سے گزرنے کے بعد نسبتاً ایک تنگ گلی میں داخل ہو چکی تھی۔ یہ راستہ اس کے لیے اجنبی نہیں تھا۔ اس کا اس راستے سے کئی بار گزرنا ہوتا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس پلازے کے تہہ خانے میں پرانی کتابوں کا اتنا
چلتی پھرتی عورت
رنگو چاچا کا ہوٹل آیا تو راول کے پیٹ میں ناچتی بھوک نے سفر کرنے سے انکار کر دیا۔ راول نے ٹرک کو تھپکی دی اور نیچے اتر گیا۔ ’’جلدی آ چھوٹے۔۔۔! زور کی بھوک لگی ہے۔‘‘ راول نے ڈھابے پر اترتے ہی فوراً چھوٹے کو آواز دی۔ اس وقت راول کو بھوک بھی بہت
بھوک
یہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ کمرے میں سکوت طاری تھا لیکن کوئی تھا جو بول رہا تھا۔ ٹی وی تو بند تھا پھر وہ کون تھا۔؟ میں نے اردگرد دیکھا۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔ میں نے اپنے بسترکی طرف دیکھا۔ وہ میرے ساتھ ہی لیٹا ہوا تھا۔ کمال ہے کہ وہ میرے اس قدر
مزدوری
شام نے جونہی آنچل پھیلایا۔ نیلو نے اپنا آنچل سمیٹ لیا۔ سینے کی تنی ہوئی چٹانوں پر نگاہ ڈالی۔ کھلے بالوں کو پکڑکر جوڑے میں قید کیا۔ گردن کو موتیوں کی مالا سے سجایا۔ پاؤں میں ہیل پہنی۔ ہینڈ بیگ اٹھایا۔ کمرے کا دروازہ بند کیا۔ اب نیلو گلی میں تھی۔ نیلو
پنچھی
رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔ پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے خود کو نیند کے سپرد کر دیا۔ شب کے راجا نے دن کے
عجیب لڑکا
رات نے سورج کو رہائی دی تو کرنوں نے دنیا کو بقعہ نور بنا دیا۔ میں بھی اسی انتظار میں تھی۔ روشنی کی رمق محسوس ہو تے ہی اٹھ بیٹھی۔ معمولات صبح سے فراغت کے بعد میں نے جلدی جلدی گرم گرم روٹی حلق سے اتاری۔ مجھے دفتر پہنچنے کی جلدی تھی۔آج دیر بھی تو ہو گئی
جستجو
شب نے ستاروں کی شال اوڑھ لی تھی۔ مسافر کے اعصاب شل ہو چکے تھے اور وہ پوری طرح نڈھا ل ہو چکا تھا۔ تھکن اس کی ہمت کو پسپا کیے دے رہی تھی لیکن سفر اس کا مقدر بن چکا تھا۔ اس کا پہلا سفر اس کی زبان سے نکلنے والے پہلے لفظ ‘‘اللہ جی’‘ کے ساتھ ہی شروع ہو
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
