- کتاب فہرست 179576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
سبین علی کے افسانے
کلمہ مہمل
سرد اداس موسم میں رات جلد اتر آتی ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آرام کے لیے جا چکے ہیں اور میں رائٹینگ ٹیبل پر بیٹھی ہاتھ میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھے ہوں، میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے
چیونٹیاں
رات کے کسی پہر وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا سارا بدن پسینے سے شرابور تھا اور سانس دھونکنی کی مانند چل رہی تھی۔ جیسے ابھی ابھی کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوا ہو۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ایسا کئی بار ہو چکا تھا مگر خواب اسے یاد نہ رہتا صبح اٹھ کر وہ معمول کے مطابق اپنے
رات کی مسافر
میرے حلق میں تمبوں کی کڑواہٹ اتری ہوئی ہے۔ دیکھ پرچھائیں۔۔۔ میری حیاتی میں سنھ لگاکر تو یہ کیوں چاہتی کہ میں تیری چاپلوسی کروں تجھے مکھن لگاٶں اور تو بھونگوں کی طرح میرے قدموں کی مٹی تلے کھڈیں نکال لے؟ دیکھ میں نے پہلے بھی تیری کسی ہم شکل کے سامنے
ایتھنے اور سموں
جولاہے بہت پریشان تھے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں کمہاروں کی بیٹی کی طرح ان کی بیٹی بھی کسی آفت کا شکار نہ ہو جائے۔ مگر سموں جولاہن جس کا خمیر جانے کس مٹی کا بنا تھا کسی کی بات پر کان نہ دھرتی تھی۔ حسن ہمیشہ مغرور ہوتا ہے یا مغرور سمجھ لیا جاتا ہے پس ایسا
آنکھوں کے راز اور خول
دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے
گاڈ سیو دا کنگ
اس کے اطراف میں گھیرا تنگ کیا جا رہا تھا۔ چاروں طرف ڈھول باجوں اور سنگینوں سے لیس لاٹھیوں نے اسے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ مگر وہ اپنے چھ بچوں کو مدتوں سے شروع کی گئی کہانی مکمل سنا دینا چاہتا تھا۔ کہانیاں اتنی آسانی سے کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔ شیر اور چوہے
تلاش
وہ ایک شاعر اور مصور تھا جو بھٹکتا ہوا اس بستی میں آن پہنچا تھا جہاں اس کے اطراف میں موجود کل کائنات مٹی دھول اور اندھیروں سے اٹی تھی۔ اس کے ارد گرد نہ تو حسین چہرے تھے اور نہ ہی رنگا رنگ فطری مناظر جنہیں وہ کینوس پر اتار لیتا۔ اس نے اپنی تصویروں میں
سمندر کے نام دوسرا غنائیہ
فصیل اندر فصیل قطار در قطار بند گلیوں کا شہر ہے۔ جہاں بلند و بالا دیواریں اور خار دار باڑیں ہیں۔ جگہ جگہ آہنی سلاخیں ہیں جو زمین کے دل میں گاڑ دی گئی ہیں اور وہی چاند جو بارش کے بعد ایک ننھے گھڑے کے پانی میں اپنی چھب دکھاتا مجھے کہانیاں سناتا تھا، اب
سنہری چوٹی
برف سے ڈھکی اُس فلک بوس چوٹی کا نام سنہری پہاڑ کیوں پڑا اس بارے میں بیس کیمپ کی قریبی بستی میں کئی کہانیاں مشہور تھیں۔ وہاں چاندنی راتوں میں چاند کے ساتھ ساتھ تمام ستارے بھی زمین کے بہت قریب آ جاتے۔ نیچے وادی میں دیودار کی لکڑی سے تعمیر گھروں اور اپنے
سمندر کے نام ایک غنائیہ
میرے اردگرد بے شمار لوگ ہیولوں کی مانند رواں ہیں۔ مگر ان کے سر نظروں سے اوجھل ہیں اور راہ گزر پر ہر طرف اونچی ایڑی کے جوتوں پر ریشمی لبادے لہراتے نظر آتے ہیں۔ کسی جوتے کی ایڑی اتنی،بلند ہے گویا قطب مینار ہو، کسی کی پیسا کے ٹاور جیسی جھکی کسی بھی پل گرنے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
