- کتاب فہرست 188990
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
سعید احمد رفیق کے مضامین
فرائڈ کا نظریۂ ادب
نفسیات نسبتاً ایک نوعمر علم ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک نفسیات، فلسفہ کی ایک شاخ سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کاطریقۂ کار، استدلالی اور مابعدالطبیعاتی تھا۔ ۱۸۷۹ء میں مشہور جرمن مفکر اور ماہر نفسیات وانٹ نے ایک نفسیاتی دارالتجربہ قائم کیا اور اس کے بعد اس علم
یونانیوں کے جمالیاتی افکار
(افلاطون تک) (میں جناب محمد اسلم قریشی۔ پروفیسر گورنمنٹ کالج کوئٹہ کا انتہائی ممنون اور شکرگزار ہوں کہ انہوں نے افلاطون کے صحیح جمالیاتی اور تنقیدی نظریات تک پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ افلاطون کے نظریۂ فن کے متعلق جو عام غلط فہمی پھیلی ہوئی
فن کے مقاصد
انسان کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ یہ مقصد شعوری یا نیم شعوری طور پر بھی اس کے پیش نظر ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے اس مقصدکا شعور نہ ہو۔ بہرحال مقصد کی غیرموجودگی نفسیاتی طور پر ناممکن ہے۔ فن کی تخلیق بھی ایک ذہنی اور مادی عمل
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
