- کتاب فہرست 188948
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1792 صحت109 تاریخ3626طنز و مزاح754 صحافت220 زبان و ادب1974 خطوط824
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات298 ناول5056 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7443افسانہ3031 خاکے/ قلمی چہرے290 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب566 ترجمہ4621خواتین کی تحریریں6303-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1413
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات694
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
سلام بن رزاق کے مضامین
غالب کے حضور میں
جس طرح فریضۂ حج کے لیے کعبہ کے طواف کے ساتھ سنگ اسود کو بوسا دینا سنت ہے۔ اسی طرح چمنستان غالبؔ کی سیر کئے بغیر اردو ادب کا ہفت خواں طے نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات کو قدرے تمثیلی پیرائے میں یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اردو ادب ایک دیو ہے جس کی جان غالبؔ
غیاث احمد گدی، ایک تاثر
غیاث احمد گدی نے جب لکھنا شروع کیا تو ادب میں ترقی پسندوں کا طوطی بول رہا تھا۔ اقلیم افسانہ پر کر شن چندر، منٹو، بیدی اور عصمت چغتائی کی شہرت کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ اس زمانے میں کسی بھی نئے افسانہ نگار کا ان کے اثرات سے بچ کر نکلنا، کھلے میدان میں
عصمت چغتائی: اردو افسانے کی ٹیڑھی لکیر
ترقی پسند عہد کے تین بڑے افسانے نگار کرشن چندر منٹو اور بیدی کے ساتھ عصمت چغتائی کا ذکر ناگزیر ہے۔ عصمت چغتائی نے آزادی سے کچھ پہلے لکھنا شروع کیا اور اپنی باغیانہ فکر، بے باکانہ طرزِ اظہار، زنانہ بامحا ورہ زبان، شوخ اور بے لاگ مکالموں کے سبب اردو
باقر مہدی سے چند آدھی ادھوری ملاقاتیں
باقر صاحب سے میرے مراسم کیسے تھے؟ کتنے تھے؟ اور کیوں تھے؟ تھے بھی یا نہیں؟ یہ سب سوالات تشنہ ہیں۔ اگر میں ان کے جوابات دینے کی کوشش کروں تو شاید جوابات بھی تشنہ ہی رہیں گے۔ میری ناقص رائے میں دو افراد کے درمیان تعلقات کبھی یکساں نہیں رہتے۔ وقت
علی سردار جعفری کی یاد میں
فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار دل پرواز چراغاں پر بلبل گلنار اردو کی ادبی تحریکوں میں ترقی پسند تحریک سب سے زیادہ توانا اور دور رس نتائج کی حامل رہی ہے۔ اس کے اثرات پورے بر صغیر کے ادب بلکہ تیسری دنیا کے ادب میں بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اردو
چراغ بجھ گیا دود چراغ باقی ہے، سریندر پرکاش کی یاد میں
’’اس بات سے تو خیر سبھی متفق تھے کہ وہ مکمل طور پر آزاد آدمی ہے۔ اور آزاد سے مراد ایسی شخصیت تھی جس پر زمین کی کشش بھی اثر انداز نہ ہو سکتی ہو۔ وہ ہم سے جب بھی ملتا کچھ اس طرح جیسے سمندر سے کوئی لہر اٹھ کر آئے اور پھر ساحل کی ریت پر پھیل جائے اور دور
راجندر سنگھ بیدی: کچھ یادیں کچھ باتیں
ترقی پسند دور کے افسانہ نگاروں میں منٹو کرشن چندر کے بعد تیسرا بڑا نام راجندر سنگھ بیدی کا ہے۔ بیدی نے منٹو اور کرشن چندر کے ساتھ بیسویں صدی کے چوتھے دہے کے آخر میں لکھنا شروع کیا مگر شروع شروع میں انہیں وہ پذیرائی نہیں ملی جو کرشن چندر اور منٹو
ساجد رشید کی یاد میں
ساجد رشید سے میرے مراسم قریب تیس پینتیس برس پرانے تھے۔ وہ عمر میں مجھ سے پندرہ برس چھوٹے تھے مگر ہماری دوستی میں عمر کا فاصلہ کبھی مانع نہیں ہوا۔ ویسے بھی ساجد رشید کو شروع سے اپنے سے عمر میں بڑوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے کا شوق رہا ہے۔ ان کی شکل و شباہت
ساگرسرحدی: ایک منفرد شخصیت
یوں تو ساگر سرحدی کا نام عوام میں ایک فلمی مکالمہ نگار، ڈائرکٹر اور پروڈیورسر کی حیثیت سے مشہور ہے مگر ادب کی دنیا میں ایک عمدہ ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ستّرکی دہائی میں ان کے دو چار افسانے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
