- کتاب فہرست 179527
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6654افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب458 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت579
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
شہناز پروین کے افسانے
ہم دونوں تنہا
میں جہاں بھی جاتی یا کوئی ملنے والا آتا ہمیشہ اسی بات پر آکر تان ٹوٹتی،’’ اتنے بڑے گھر میں تم دونوں تنہا رہتے ہو؟‘‘میں بار بار وضاحت کرتی، ’’اس گھر میں جب ہم دونوں ہیں تو تنہا کیسے ہوئے؟ رہا تنہائی کا سوال تو بعض اوقات انسان مجمعے میں بھی تنہا رہ
روشنی چاہیے، زندگی کے لیے
وہ خواب تھا یا گمان تھا یا دونوں کے درمیان کوئی ساعت مگر اندھیرا تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا، خاص کر اس مقام پر جہاں روشنی کی ننھی سی کرن پھوٹنے کا ذرا سا بھی گمان ہوتا اندھیرا وہاں سب سے پہلے پہنچتا اور امید کی کرن کو نکل کر پھیلنے سے پہلے نگل لیتا،
چپ کہانی
بعض ساعتیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں، پل بھر میں بےجان چیزوں کو جاندار اور جاندار کو بےجان بنادیتی ہیں۔ دین محمد میرے پاس سے گیا تھا تو کیسا زندہ آدمی تھا اور واپس آیا تو زندہ لاش بن چکا تھا۔ ساتھ کام کرنے والے دونوں لڑکے اس کے پاس افسردہ بیٹھے تھے۔ دین
ایلس ونڈرلینڈ میں
ہسپتال آنا جانا میرا معمول بن گیا تھا، میں ہر روز اپنی بیٹی عینی کی واپسی سے پہلے استقبالیہ کے سامنے انتظار گاہ میں اس کی راہ دیکھتی رہتی، اس روز ایک بہت خوب صورت کم عمر سی لڑکی میرے قریب آکر بیٹھ گئی۔ اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اس نے بڑی دل آویز مسکراہٹ
کھلا پنجرہ
بہت دنوں کے بعد ذرا فرصت ملی تو خیال آیا بکھری ہوئی یادوں کوسمیٹ کر ایک البم کی صورت دے ڈالوں۔ بےشمار تصویریں تھیں جو الگ الگ لفافوں میں ڈال رکھی تھیں، ہر تصویر کے ساتھ یاد کا ایک لمحہ بندھا تھا، گھنٹوں گزر گئے۔ تصویروں سے کردار نکل کر سامنے آتے، کبھی
جستجو کیا ہے۔۔۔
وہ مجھ سے اکثر ایک عجیب سا سوال کر بیٹھتیں۔’’تم دونوں ایک ہی کمرے میں ایک ہی بستر پر سوتے ہو نا؟‘‘ ان کے بار بار کے اس بھونڈے سوال سے میں گھبرا جاتی، مجھے کبھی غصہ اور خوف آتا اور کبھی وسوسہ اور گھبراہٹ، لیکن ان کے لہجے میں اتنی اپنائیت ہوتی کہ شدید
اپنا اپنا قفس
’’ماہی، ما ہرہ، اے ماہرہ‘‘ ایک آ واز ہے جو میرے حافظے میں یوں رچ بس گئی ہے کہ میں چاہنے کے باو جود اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔ ابا میاں کا سارا مرکز و محور میں ہی تھی، کبھی کبھی دل چاہتا سنی ان سنی کر دوں اور کہہ دوں: ’’بابا خدا کے لیے آپ کی اور بھی
خوشبو کی تلاش میں
وہ چپکے چپکے سب سے نظریں بچا کر ادھر ادھر دیکھتی تھی مبادا کوئی اسے دیکھ نہ لے،خاموشی سے کبھی رات کے اندھیروں میں کبھی دن کے اجالوں میں زمین کھود کر مٹی کریدتی اور اسے سونگھتی، کبھی آنکھوں کے دیے جل اٹھتے کبھی ان میں مایوسی کا درد لہریں لیتا، کبھی نا
پسپائی
ایک عرصے کے بعددل میں پھر ایک ہوک سی اٹھی اور وطن کی مٹی کی خوشبو نے سارے وجود کو لپیٹ میں لے لیا۔ ’’اتنے دنوں کے بعد جاکر کیا کروگی؟ اب تو وہاں کوئی بھی نہیں ہے تمھارا۔‘‘ میری دوستوں نے کہا تو میں رو پڑی۔ ’’سب کچھ تو ہے میرا وہاں، میرا شہر، اسکول،
کمبخت ظالم عورت
آج برسوں بعد ایک ٹیلیفون کال نے مجھے پھر بےقرار کر دیا تھا، صبح ہی صبح میرے چھوٹے بیٹے نے فون اٹھایا اور بےاختیار مجھ سے لپٹ کر رونے لگا، ’’امی بھیا بہت رو رہا تھا، ابو اچانک فوت ہو گئے۔۔۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ
محبوس
دن کے پونے دو بجے تھے، آسمان سے آگ برس رہی تھی۔ آدھ گھنٹے سے ٹریفک رکا ہوا تھا، لوگ ہارن پر ہارن دیے جا رہے تھے مگر گاڑیاں تھیں کہ آگے بڑھنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ بالآخر بہتوں نے انجن بند کرکے اپنے آپ کو حالات کے سپرد کر دیا۔ ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
