- کتاب فہرست 179347
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
شوکت تھانوی کے قصے
بے وقوف کی پہچان
ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا، ’’آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں لیکن یہ چہرے سے جتنے بیوقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔‘‘ شوکت تھانوی نے فوراً کہا، ’’جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی
بے وفا کے کوچے میں
نوعمر ی کے زمانے میں شوکت تھانوی نے ایک غزل کہی اور بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ماہنامہ ’’ترچھی نظر‘‘ میں چھپوانے میں کامیاب ہوگئے۔ غزل کا ایک شعر تھا، ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جاکر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں شوکت تھانوی کے والد
واہ! آپ کی تو بیوی ہے
شوکت تھانوی باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے۔ ایک بار بیوی کے ساتھ کراچی جارہے تھے۔ جس ڈبہ میں ان کی سیٹ تھی وہ نچلی تھی۔ اوپر کی سیٹ پرایک موٹے تازے آدمی براجمان تھے۔ شوکت صاحب نے اٹھ کر انہیں غور سے دیکھا پھر چھت کی طرف دیکھ کر کہا، ’’سبحان اللہ قدرت۔‘‘
ملک الموت کی عنایت
ایک دفعہ شوکت تھانوی سخت بیمار پڑے۔ یہاں تک کہ ان کے سر کے سارے بال جھڑگئے۔ دوست احباب ان کی عیادت کو پہنچے اور بات چیت کے دوران ان کے گنجے سر کو بھی دیکھتے رہے۔ سب کو متعجب دیکھ کر شوکت تھانوی بولے، ’’ملک الموت آئے تھے۔ صورت دیکھ کر ترس آگیا۔ بس
بارہ سنگھا
پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس۔ پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری جز ’’سنگھا‘‘ تھا۔ جب ان کے بارہواں لڑکا پیدا ہوا تو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔ اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا، ’’آپ اس کا نام ’’بارہ سنگھا‘‘ رکھ دیجئے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
