- کتاب فہرست 188733
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2088
ڈرامہ1035 تعلیم388 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1781 صحت109 تاریخ3599طنز و مزاح758 صحافت219 زبان و ادب1978 خطوط823
طرز زندگی29 طب1051 تحریکات299 ناول5076 سیاسی375 مذہبیات5035 تحقیق و تنقید7431افسانہ3040 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب571 ترجمہ4617خواتین کی تحریریں6322-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1489
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1384
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1678
- کہہ مکرنی7
- کلیات724
- ماہیہ21
- مجموعہ5415
- مرثیہ405
- مثنوی897
- مسدس62
- نعت612
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
شیخ ایاز کا تعارف
اردو اور سندھی کے مشہور شاعر شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا۔ وہ 02مارچ 1923ء کو شکارپور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن اور قانون کی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے 1950ء میں کراچی میں وکالت کا آغاز کیا۔ 1946ء میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سفید وحشی‘‘ شائع ہوا اس کے بعد ان کی کہانیوں کے کئی اور مجموعے بھی شائع ہوئے، جن میں پنھل کان پوئِ خصوصاً قابل ذکر ہے۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی بھی دھوم ہوئی۔ ان کی روانی طبع اور برجستگی کو دیکھ کر کئی قادرالکلام اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’بھور بھرے آکاس‘‘ 1962ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس مجموعہ پر 1964ء میں حکومت نے پابندی لگا دی۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’کلھے پاتم کینرو‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی 1968ء پابندی کی زد میں آ گیا۔ شیخ ایازؔ نے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور ان کی اردو شاعری کے مجموعے بوئے گل نالۂ دل، کف گلفروش اور نیل کنٹھ اور نیم کے پتے کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی سندھی شاعری کا ایک اردو ترجمہ بھی ’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ شیخ ایازؔ کا ایک بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ان کے اس ترجمے کی وساطت سے شاہ لطیف کا پیغام اردو داں طبقے تک بھی پہنچا۔ شیخ ایازؔ کے کئی نثری کارنامے بھی اہل نظر سے داد حاصل کرچکے ہیں۔ جن میں ان کی تقاریر کا مجموعہ ’’بقول ایاز‘‘، خطوط کا مجموعہ ’’جے کاک ککوریا کا پڑی‘‘، مضامین کا مجموعہ’’ بھگت سنگھ کھے فانسی‘‘ اور یادداشتوں کے مجموعے ’’کراچی جا ڈینھن ئِ رایتون‘‘ اور ’’ساہیوال جیل جی ڈائری‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ 1976ء میں انہیں سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ 28؍دسمبر 1997ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ بھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2088
-
