- کتاب فہرست 188807
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
ڈرامہ1032 تعلیم376 مضامين و خاكه1552 قصہ / داستان1767 صحت109 تاریخ3605طنز و مزاح754 صحافت216 زبان و ادب1994 خطوط820
طرز زندگی27 طب1042 تحریکات299 ناول5035 سیاسی374 مذہبیات4985 تحقیق و تنقید7414افسانہ3057 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل120 تصوف2286نصابی کتاب573 ترجمہ4593خواتین کی تحریریں6352-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1499
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت67
- غزل1350
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1667
- کہہ مکرنی7
- کلیات719
- ماہیہ21
- مجموعہ5390
- مرثیہ404
- مثنوی889
- مسدس62
- نعت604
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا11
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
شیخ ایاز کا تعارف
اردو اور سندھی کے مشہور شاعر شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا۔ وہ 02مارچ 1923ء کو شکارپور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن اور قانون کی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے 1950ء میں کراچی میں وکالت کا آغاز کیا۔ 1946ء میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سفید وحشی‘‘ شائع ہوا اس کے بعد ان کی کہانیوں کے کئی اور مجموعے بھی شائع ہوئے، جن میں پنھل کان پوئِ خصوصاً قابل ذکر ہے۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی بھی دھوم ہوئی۔ ان کی روانی طبع اور برجستگی کو دیکھ کر کئی قادرالکلام اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’بھور بھرے آکاس‘‘ 1962ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس مجموعہ پر 1964ء میں حکومت نے پابندی لگا دی۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’کلھے پاتم کینرو‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی 1968ء پابندی کی زد میں آ گیا۔ شیخ ایازؔ نے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور ان کی اردو شاعری کے مجموعے بوئے گل نالۂ دل، کف گلفروش اور نیل کنٹھ اور نیم کے پتے کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی سندھی شاعری کا ایک اردو ترجمہ بھی ’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ شیخ ایازؔ کا ایک بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ان کے اس ترجمے کی وساطت سے شاہ لطیف کا پیغام اردو داں طبقے تک بھی پہنچا۔ شیخ ایازؔ کے کئی نثری کارنامے بھی اہل نظر سے داد حاصل کرچکے ہیں۔ جن میں ان کی تقاریر کا مجموعہ ’’بقول ایاز‘‘، خطوط کا مجموعہ ’’جے کاک ککوریا کا پڑی‘‘، مضامین کا مجموعہ’’ بھگت سنگھ کھے فانسی‘‘ اور یادداشتوں کے مجموعے ’’کراچی جا ڈینھن ئِ رایتون‘‘ اور ’’ساہیوال جیل جی ڈائری‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ 1976ء میں انہیں سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ 28؍دسمبر 1997ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ بھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
-
