- کتاب فہرست 180518
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1584 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب970 تحریکات267 ناول4270 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4872
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شبلی نعمانی کے مضامین
شاعری کی حقیقت اور ماہیت
(’’شاعری کی حقیقت اور ماہیت‘‘ علامہ شبلی کی کتاب شعرالعجم جلد چہارم کا ابتدائی مضمون ہے۔) شاعری کی حقیقت شاعری چونکہ وجدانی چیز ہے اس لئے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جاسکتی، اس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ
میر انیس اور مرزا دبیر کا موازنہ
(مندرجہ ذیل تحریر علامہ شبلی کی کتاب ’’موازنۂ انیس و دبیر‘‘ سے ماخود ہے) اردو علمِ ادب کی جو تاریخ لکھی جائے گی، اس کا سب سے عجیب تر واقعہ یہ ہوگا کہ مرزا دبیر کو ملک نے میرانیس کا مقابل بنایا اور اس کا فیصلہ نہ ہوسکا کہ ان دونوں حریفوں میں ترجیح
فن بلاغت
مسلمانوں نے جوعلوم وفنون خودایجاد کئے اورجن میں وہ کسی کے مرہون منت نہیں، ان میں ایک یہ فن بھی ہے۔ عام خیال یہ ہے اورخودہم کوبھی ایک مدت تک یہ گمان تھا کہ یہ فن بھی مسلمانوں نے یونانیوں سے لیا۔ ابن اثیر نے مثل السائر میں ایک جگہ لکھا ہے کہ، ’’یونانیوں
سر سید مرحوم اور اردو لٹریچر
سرسید کے جس قدر کارنامے ہیں اگرچہ رفارمیشن اور اصلاح کی حیثیت ہر جگہ نظرآتی ہے، لیکن جو چیزیں خصوصیت کے ساتھ ان کی اصلاح کی بدولت ذرے سے آفتاب بن گئیں، ان میں ایک اردو لٹریچر بھی ہے۔ سرسید ہی کی بدولت اردو اس قابل ہوئی کہ عشق وعاشقی کے دائرے سے نکل
املا اور صحت الفاظ
ایک معزز اور محترم بزرگ نے جو ہندوسان کے مشہور صاحب قلم اور معاملات ملکی میں بڑے اہل الرائے ہیں، ہم کو ایک نہایت طولانی خط لکھا ہے، جس میں سخت افسوس کے ساتھ اس بات کی شکایت کی ہے کہ نااہلوں کی وجہ سے اردو زبان روز بہ روز بگڑتی جاتی ہے ، اور اگر اس
زیب النساء
بمبئی کے سفرمیں ایک عزیز دوست نے جو انگریزی تصنیفات پر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں انڈین میگزین اینڈ ریویو کا ایک آرٹیکل دکھلایا جو زیب النساء کی سوانح عمری کے متعلق تھا، مجھ کو افسوس ہوا کہ ایک ایسے معزز پرچہ کا سرمایہ معلومات تمام تر بازاری قصے تھے جس
بھاشا، زبان اور مسلمان
ناظرین کو یاد ہوگا کہ ایک سربرآوردہ ہندو ایڈیٹر نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں دعویٰ کیا تھا کہ ’’مسلمانوں نے تعصب مذہبی کی وجہ سے ہندی علم وادب پر کبھی توجہ نہیں کی اور اگر اتفاقیہ کسی نے کچھ کی تو اس کو مسلمانوں نے کافر کہہ کے پکارا۔‘‘ اس کا جواب
تحفۃ الہند
مسلمانوں کی توجہ برج بھاشا پر، برج بھاشا کا فن معانی و بیان یاد ہوگا کہ ہمارے ایک معزز ہندو دوست نے اردوئے معلیٰ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس پرمعترضانہ افسوس ظاہر کیا تھا کہ مسلمانوں نے ۶ سو برس تک اس ملک میں حاکم رہ کر کبھی ملکی زبان کی
حالی و شبلی کی معاصرانہ چشمک
جدت موضوع چاہتی تھی کہ جہاں تک ہماری آخری بزم کا تعلق ہے اس لپیٹ میں کوئی چھوٹنے نہ پائے، لیکن افسوس ہے مواد ترکیبی کی کمی نے زیادہ پھیلنے کا موقع نہ دیا اور گو ’’چشمک‘‘ کا دائرہ اطلاقی خالص حالی و شبلی کی شوخیٔ قلم سے آگے نہیں بڑھا لیکن ضمناً اوروں
حقائق اشیا اور معشوق حقیقی
تصوف کا راستہ عام شاہراہ سے اس قدر الگ ہے کہ نیا شخص اس عالم میں آتا ہے تو ہرطرف سے اس کے کان میں یہ صدائیں آتی ہیں کہ اس نے آج تک جو کچھ دیکھا تھا، سنا تھا، سمجھا تھا، سب غلط ہے، لیکن ایک مدت کا تجربہ، علم اوریقین دفعتاً بدل نہیں سکتا، اس لئے انسان
مولانا آزاد اور علامہ شبلی نعمانی
مولانا ابو الکلام آزاد بلاشبہ نابغۂ روزگار تھے۔ ان کی غیرمعمولی ذہانت و ذکاوت، مسحورکن خطابت، بے مثال انشاپردازی، اس کے ساتھ ہی دانش وری اور سیاسی بصیرت کو اب مسلّمات کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی وسعت ِمطالعہ، قوتِ حافظہ اور جامعیت بھی عجیب و غریب تھی۔
آدھ گھنٹہ علامہ شبلی کے ساتھ
فاضل عصر پروفیسر کی تالیف جدید یعنی مولانا رومؒ کی لائف، جس کے لئے مدت سے آنکھیں فرش راہ تھیں، گھونگھٹ سے باہر آئی اور اس طرح کہ، ’’عروس جمیل و لباس حریر۔‘‘ یورپ میں جہاں مذاق حسن پرستی، یعنی ایک طرح کے تناسب اجزا کی رعایت قریب قریب ہر شخص کا خمیر
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
