- کتاب فہرست 188897
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2089
ڈرامہ1036 تعلیم388 مضامين و خاكه1558 قصہ / داستان1785 صحت109 تاریخ3606طنز و مزاح760 صحافت220 زبان و ادب1979 خطوط824
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5064 سیاسی375 مذہبیات5048 تحقیق و تنقید7447افسانہ3036 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2296نصابی کتاب572 ترجمہ4622خواتین کی تحریریں6310-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1391
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5421
- مرثیہ405
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت613
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
سید سبط حسن کے مضامین
تہذیب کی تعریف
ہر قوم کی ایک تہذیبی شخصیت ہوتی ہے۔ اس شخصیت کے بعض پہلو دوسری تہذیبوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہے جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے الگ اور ممتاز کرتی ہیں۔ ہر قومی تہذیب اپنی انہیں انفرادی خصوصیتوں سے پہچانی جاتی
فورٹ ولیم کالج
فورٹ ولیم کالج سرزمین پاک و ہند میں مغربی طرز کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جو لارڈ ویلزلی گورنرجنرل (۱۷۹۸۔ ۱۸۰۵ء) کے حکم سے ۱۸۰۰ء میں کلکتہ میں قائم ہوا۔ کالج قائم کرنے کا فیصلہ گورنرجنرل با اجلاس نے ۱۰ جولائی ۱۸۰۰/۱۷ صفر ۱۲۱۵ھ کو کیا تھا مگر اس شرط کے
انسان جو خدا بن گئے
قصص الانبیاء کا مصنف نمرود کی خدائی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ نمرود کنعان بن آدم بن سام بن نوحؑ کا بیٹا تھا اورزبان اس کی عربی تھی۔ اس نے اپنے لشکر کی مدد سے ملک شام اور ترکستان کو فتح کیا۔ بعدہ ہندوستان اور روم کو بھی قبضہ میں لایا اور مشرق
اردو رسم الخط کی اصلاح
سبط حسن صاحب کا یہ مضمون روزنامہ امروز نے دو قسطوں میں اپنی ۶ اور ۷ جون ۱۹۵۵ء کی اشاعتوں میں شائع کیا (مرتب) جناب ڈاکٹر مولوی عبد الحق صاحب کا ایک مضمون اردو کے رسم الخط کے بارے میں اخبار ’’امروز‘‘ مورخہ ۳۰ مئی میں نظر سے گزرا۔ اس مضمون میں محترم
ایک عورت، ہزار افسانے
کسی پرانی قوم کے عقائد و افکار کا جائزہ لیتے وقت اس کے سماجی اور معاشرتی حالات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ ان عقائد و افکار کے اصل محرکات ہماری سمجھ میں نہیں آسکتے۔ مگر انسان کا معاشرہ کوئی جامد اور ساکن شے نہیں ہے بلکہ اس میں وقتاً فوقتا
تہذیب سے تمدن تک
تب انو نے پاکیزہ مقامات پر پانچ شہر بسائے اور ان کو نام دیے اور وہاں عبادت کے مرکز قائم کئے۔ ان میں پہلا شہر اریدو تھا۔ اسے پانی کے دیوتا اِن کی کے حوالے کیا گیا۔ لوح نیفر، سیلاب عظیم ہر تہذیب اپنے تمدن کی پیش رو ہوتی ہے۔ تہذیب کے لئے شہر،
سجاد ظہیر
1973ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں سید سجاد ظہیر کے انتقال پر سبط حسن صاحب نے زیر نظر دو مضامین سپرد قلم کئے۔ پہلا مضمون انگریزی روزنامہ ڈان کراچی میں شائع ہوا جبکہ دوسرا مضمون انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین، ادارہ یادگار غالب اور ینگ
ن م راشد اور ترقی پسندی
زیر نظر مضمون ماہنامہ پاکستانی ادب کے اگست ۱۹۷۵ء کے شمارے میں اداریے کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ن۔ م راشد کا مکتوب بھی شائع ہوا جس کے حوالے سے اداریہ سپرد قلم کیا گیا تھا۔ یہاں یہ دونوں تحریریں پیش کی جا رہی ہیں۔ (مرتب) جناب ن۔ م۔ راشد
مسئلہ زبان اور قومی تقاضے
زیر نظرمضمون روزنامہ امروز کی یکم اور ۲ اکتوبر ۱۹۵۵کی اشاعتوں میں قسط وار شائع ہوا۔ (مرتب) پروفیسر میکس مولر نے ۱۸۸۹ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے دانشوروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’کتنے شرم کی بات ہے کہ ہمارے تعلیم کے نظام میں ابتدائی تعلیم
ماضی کے مزار
اس زمین میں ماضی کے نہ جانے کتنے مزار پوشیدہ ہیں۔ قومیں جن کا ایک فرد بھی اب صفحہ ہستی پر موجود نہیں ہے۔ زبانیں جن کا کوئی بولنے والا اب زندہ نہیں ہے۔ عقائد جن کا ایک پیرو بھی اب کہیں نظر نہیں آتا۔ پررونق شہر، عظیم معابد اور عالیشان محل جن کے نشان بھی
لوح و قلم کا معجزہ
اگر تم میری ہدایتوں پرعمل کروگے توصاحب ہنرمحرر بن جاؤگے۔ وہ اہل قلم جو دیوتاؤں کے بعد پیدا ہوئے آئندہ کی باتیں بتا دیتے تھے۔ گو وہ اب موجود نہیں ہیں لیکن ان کے نام آج بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہوں نے اپنے لئے اہرام نہیں بنائے اور نہ اس
join rekhta family!
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2089
-
