- کتاب فہرست 179240
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1374 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6589افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2029نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5862-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1253
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید تحسین گیلانی کے افسانچے
دیمک
خیال نے جست لگائی اور ہمارے دهیان سے نکل کر ہمارے سامنے مجسم ہو گیا ۔ مجهے لگا میں خالی ہو گیا !! پاگل ہو ۔۔۔ اتنی شدت اچهی نہیں ہوتی!! جتنا رلانا ہے ایک ہی بار رلا دیں۔ یوں کریں۔۔۔ مجهے لفظوں کی دیوار میں چنوا دیں۔ لیکن یہ سناٹے اور خاموشیوں کی چیخوں
فیصلہ
ایک گھنٹے کو گزرے پورا ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور پورے ایک گھنٹے سے وہ اس منظر کو تکے جا رہا تھا ۔ وہ منظر جو سامنے تھا ، کالے گہرے بادلوں سے گرتا کالا رس اور زمین پر جل تھل کالا سیال بہتا منظر ! وہاں کوئی ذی روح نہیں تھا ، ہاں وہاں سناٹا تها جو اس منظر
ظہور
مجھے آج خود میں قید ہوئے سات سو برس ہو چکے تھے ۔ میں کسی پر آشکار نہ ہو سکا خود پر بھی نہیں ۔ میرے اندر وہ کون تھا جو مجھے سہارا دیے ہوئے تھا مجھے زندہ رکھے ہوئے تھا ۔لیکن کیا میں واقعی کہیں تھا یا مجھ میں واقعی کوئی تھا ؟؟ ایسے کئی سوال برسوں سے مجھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
