- کتاب فہرست 179600
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید تحسین گیلانی کے افسانچے
دیمک
خیال نے جست لگائی اور ہمارے دهیان سے نکل کر ہمارے سامنے مجسم ہو گیا ۔ مجهے لگا میں خالی ہو گیا !! پاگل ہو ۔۔۔ اتنی شدت اچهی نہیں ہوتی!! جتنا رلانا ہے ایک ہی بار رلا دیں۔ یوں کریں۔۔۔ مجهے لفظوں کی دیوار میں چنوا دیں۔ لیکن یہ سناٹے اور خاموشیوں کی چیخوں
فیصلہ
ایک گھنٹے کو گزرے پورا ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور پورے ایک گھنٹے سے وہ اس منظر کو تکے جا رہا تھا ۔ وہ منظر جو سامنے تھا ، کالے گہرے بادلوں سے گرتا کالا رس اور زمین پر جل تھل کالا سیال بہتا منظر ! وہاں کوئی ذی روح نہیں تھا ، ہاں وہاں سناٹا تها جو اس منظر
ظہور
مجھے آج خود میں قید ہوئے سات سو برس ہو چکے تھے ۔ میں کسی پر آشکار نہ ہو سکا خود پر بھی نہیں ۔ میرے اندر وہ کون تھا جو مجھے سہارا دیے ہوئے تھا مجھے زندہ رکھے ہوئے تھا ۔لیکن کیا میں واقعی کہیں تھا یا مجھ میں واقعی کوئی تھا ؟؟ ایسے کئی سوال برسوں سے مجھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
