- کتاب فہرست 179598
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید وحیدالدین سلیم کے اقوال
عورتوں کا بناؤ سنگھار اور زینت و آرائش کا جو شوق ہے، وہ ان کے لیے ان کی بہت سی بیماریوں کا قدرتی علاج ہے اور کسی عورت کو اس شوق کے پورا کرنے سے باز رکھنا نامناسب اور ان کے حق میں نہایت مضر ہے۔
ہمارے نزدیک صوبہ جاتِ متحدہ کی عام زبان ہندوستانی ہے اور اس کی دو ممتاز شکلیں ہیں، جن کا نام اردو اور ہندی ہے۔
ہمارے شعرا جب غزل لکھنے بیٹھتے ہیں تو پہلے اس غزل کے لیے بہت سے قافیے جمع کرکے ایک جگہ لکھ لیتے ہیں، پھر ایک قافیہ کو پکڑ کر اس پر شعر تیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ قافیہ جس خیال کے ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے اسی خیال کو ادا کر دیتے ہیں۔ پھر دوسرے قافیہ کو لیتے ہیں، یہ دوسرا قافیہ بھی جس خیال کے ادا کرنے کا تقاضا کرتاہے اسی خیال کو ظاہر کرتے ہیں، چاہے یہ خیال پہلے خیال کے برخلاف ہو۔ اگر ہماری غزل کے مضامین کا ترجمہ دنیا کی کسی ترقی یافتہ زبان میں کیا جائے، جس میں غیر مسلسل نظم کا پتہ نہیں ہے تو اس زبان کے بولنے والے نو دس شعر کی غزل میں ہمارے شاعر کے اس اختلاف خیال کو دیکھ کر حیران رہ جائیں۔ ان کو اس بات پر اور بھی تعجب ہوگا کہ ایک شعر میں جو مضمون ادا کیا گیا ہے، اس کے ٹھیک برخلاف دوسرے شعر کا مضمون ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ شاعر کا اصلی خیال کیا ہے۔ وہ پہلے خیال کو مانتا ہے یادوسرے خیال کو۔ اس کی قلبی صدا پہلے شعر میں ہے یا دوسرے شعر میں۔
بلاغت کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم الفاظ سے زیادہ سے زیادہ معنی سمجھے جائیں۔ یہ بات جس قدر تلمیحات میں پائی جاتی ہے، الفاظ کی دیگر اقسام میں نہیں پائی جاتی۔ جس زبان میں تلمیحات کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں، وہ بلاغت کے درجے سے گری ہوئی ہے۔
اقبال کا فارسی انداز بیان اختیار کرنا اردو زبان کے لیے سراسر بدقسمتی ہے مگر وہ اپنی مصلحت کو خود ہی بہتر جانتے ہیں۔
سچی شاعری سے جس کی بنیاد حقیقت اور واقعیت پر رکھی جاتی ہے اور جس میں اخلاق کے مفید پہلو دکھائے جاتے ہیں اور مضر اور ناپاک جذبات کا خاکہ اڑایا جاتا ہے، دنیا میں نہایت اعلیٰ درجہ کی اصلاح ہوتی ہے اور اس سے سوسائٹی کی حالت دن بدن ترقی کرتی ہے اور قوم اور ملک کو فائدہ پہنچتا ہے برخلاف اس کے جو شاعر مبالغوں اور فضول گوئیوں اور نفس کی بے جا امنگوں کے اظہار میں مشغول رہتے ہیں، وہ دنیا کے لیے نہایت خوفناک درندے ہیں۔ وہ لوگوں کو شہد میں زہر ملاکر چٹاتے ہیں اور انسان کے پردہ میں شیطان بن کر آتے ہیں۔ خدا ہماری قوم کو ایسے شاعروں سے اور ان کی ایسی شاعری سے نجات دے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
