- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
طارق چھتاری کے افسانے
باغ کا دروازہ
گرمیوں کی تاروں بھری رات نے گھر کے بڑے آنگن کو شبنم کے چھڑکائو سے ٹھنڈا کر دیا تھا۔ جیسے ہی دادی جان نے تسبیح تکیے کے نیچے رکھی نوروز کود کر ان کے پلنگ پر جا پہنچا۔ ’’دادی جان جب سبھی شہزادے باغ کی رکھوالی میں ناکام ہو گئے تو چھوٹے شہزادے نے بادشاہ
لکیر
آج سورج غروب ہونے سے پہلے بادلوں بھرے آسمان پر عجب طرح کا رنگ چھا گیا تھا۔ یہ رنگ سرخ بھی تھا اور زرد بھی۔ ان دونوں رنگوں نے آسمان کودرمیان سے تقسیم کر دیا تھا۔ جس مقام پر دونوں رنگ مل رہے تھے، وہاں ایک گہری لکیر دکھائی دیتی تھی۔ دھیان سے دیکھنے پر
نیم پلیٹ
’’کیا نام تھا اس کا؟ اف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔‘‘ کیدارناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹاکر پھینک دیااور اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ’’یہ کیا ہوگیا ہے مجھے، ساری رات بیت گئی نیند ہی نہیں آ رہی ہے۔ ہوگا کچھ نام وام، نہیں یاد آتا تو کیا کروں، لیکن نام تو یاد
بندوق
شیخ سلیم الدین عشاء کی نماز کے بعد حویلی کے دالان میں بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ ان کابیٹا غلام حیدر بھی مونڈھا کھینچ کران کے پاس ہی آن بیٹھا۔ ’’ابا حضوران دنوں فضا ٹھیک نہیں ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ بازار میں کچھ مشکوک چہرے آپ کا تعاقب کرتے ہیں۔ وہ قصبے سے
آن بان
’’کیا؟ ہری سنگھ کی شادی ہو رہی ہے؟ ارے کسی نے یوں ہی اڑا دی ہوگی۔‘‘ ’’اجی نہ چودھری صاحب، بات سولہو آنہ پکی ہے۔‘‘سندر نے کہا۔ ’’مگر بھئی، یہ ہوا کیسے؟‘‘ ’’کان میں اڑتی اڑتی پڑی ہے کہ گھٹیا والے ننوانے بات لگائی ہے۔‘‘ سندر گردن کا میل چھڑاتے
آدھی سیڑھیاں
سعیدہ بیگم اپنے کمرے سے نکل کر دہرے دالان سے ہوتے ہوئے احمد کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ’’اٹھ گئے بیٹے؟‘‘ ’’جی امی جان۔۔۔‘‘ احمد آنکھیں ملتا ہوا بستر سے اترکر کھڑا ہو گیا۔ ’’آفتابے میں گرم پانی رکھ دیا ہے، جائو منہ دھولو۔‘‘ احمد نے منہ دھو
شیشے کی کرچیں
وارڈ کے سب مریض گہری نیند سوتے رہے اوروہ صبح کے انتظار میں رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح ہوتے ہی مریمؔ اپنی ٹیم کے ساتھ سفید ایپرن پہنے، گلے میں آلہ لٹکائے آہستہ سے آئے گی اور پوچھےگی۔ ’’کوئی پرابلم ؟‘‘ ’’جی نہیں ڈاکٹر۔۔۔‘‘وہ ہمیشہ یہی کہتا
غم سے نجات پائے کیوں
شکستہ دیوار و در، ہر سو بیاباں، قیامت خیز یہ منظر کہ بوسیدہ محراب کے نیچے شطرنجی بچھا کر مرزا نوشہ نے سیاہ مہروں کو بساط پر یوں سجایا گویا ان کی فتح لازم ہو اور مدِّ مقابل کی شکست ملزوم۔مرزا نے فرغل سمیٹا اور دوزانو بیٹھ کر پیادے کو ایک خانہ آگے بڑھا
کھوکھلا پہیا
’’ہم تو خدا کے بنائے ہوئے پہیے ہیں، کھوکھلے پہیے۔۔۔ وہ جس طرح چاہتا ہے گھماتا ہے اور اگر ہم گھومنے سے انکار کریں۔۔۔ انکار؟ انکار کیسے کر سکتے ہیں، ہمیں تو گھومتے ہی رہنا ہے، کبھی مرضی سے اورکبھی مرضی کے بغیر۔‘‘ وہ ہر شام دھندے پر نکلنے سے پہلے
تین سال
علی جان کو اپنے ماتھے پر بندھے سہرے کی لڑیاں لوہے کی زنجیروں سے بھی زیادہ وزنی اور خوفناک لگ رہی تھیں۔ وہ پھولوں میں منہ چھپائے کچھ اس طرح سہما ہوا بیٹھا تھا جیسے چڑیا کا بچہ سر پر باز کواڑتے دیکھ کر سہم جاتا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ مرزا مجید اپنے ساتھ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
