- کتاب فہرست 179629
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
طارق مرزا کے مضامین
اقبالؒ کے فکری مآخذ
شاعرِمشرق حضرت علامہ اقبالؒ کے فکری مآخذ کے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ان کی حیات میں شروع ہو گیا تھا جو ابھی تک تھما نہیں ہے۔خصوصاً ان کے شہرہ آفاق اور معراجِ انسانیت فلسفہِ خودی کے متعلق مختلف نقّادوں نے مختلف یورپی علمی شخصیات کے نام لیے ہیں۔زیادہ
اقبالؒ اوراحیائے ملت اسلامی
حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ کو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا گہرا ادراک و احساس تھا اور اس عظمت کے کھو جانے کا شدید ملال تھا ۔ مگر وہ اس پر ماتم نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوامقام یاد کراتے ہیں اورانہیں یہ مقام پھر سے حاصل کرنے کا ولولہ
اقبال ایک آفاقی شاعر
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال ؒ بیسویں صدی کی ایک نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اگرچہ شاعری ان کی وجہ شہرت بنی تاہم انہوں نے اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے برصغیر
آج عہدِ یُوسفی تمام ہوا
ہم عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں۔یوسفی صاحب کے بارے میں یہ بات ابنِ انشا نے آج سے تقریباََ نصف صدی قبل کہی تھی۔ہمیں فخر ہے کہ ہم اس عہد کا حصہ ہیں۔ اگرچہ آج یہ عہد تمام ہوا۔مگر اس عہد ساز شخصیت کے قلم سے نکلے رنگ ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ اُردو ادب کا یہ انتہائی
وہ آئیں گھر میں ہمارے
آسٹریلیا میں کوئی تقریب منعقد کرنی ہو تو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں مدعوئین کا انتخاب اور مہمانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا سب سے مشکل کام ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تقریب کا اپنا مزاج ہوتاہے۔ ہر شخص ہر تقریب کے لیے موزوں نہیں ہوتا
ادبی گستاخیاں
دُنیا کے دیگر ممالک کی طرح آسٹریلیا میں بھی اُردو زبان و ادب کے حوالے سے تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں ۔ ان تقریبات میں زیادہ تر مشاعرے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اُردو بولنے والوں نے اور کسی حوالے سے ترقی کی ہو یا نہیں ، کم از کم شاعری کے حوالے سے خود کفیل ہو
آہ! پروفیسر رئیس علوی بھی چل بسے
سڈنی آسٹریلیا کا اس لحاظ سے منفرد شہر ہے کہ یہاں تین دہائیوں سے اُردو شعر و ادب کا گلستاں آباد ہے۔مقامی ادباء اور شعرا ء کا ایک گلدستہ سجا ہے جن کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ادبی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں علاوہ پاکستان اورہندوستان سے بھی اہم
مرزا غالب کا سفرِ کلکتہ
برصغیر کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ اپنے زمانے کے مروّجہ علوم پر اُنھیں مکمل عبور حاصل تھا ۔تاہم ان کی وجہ شہرت شاعری تھی جو دو صدیاں گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ شاعری کے لیے اُنھوں نے اُردو اور فارسی دونوں کو ذریعہ
اقبال کا تصوّر قرآن
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے تم مسلمان ہو یہ اندازِ مسلمانی ہے حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہے تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ رُوحانی ہے وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر یہ اشعار اس شاعر کے ہیں جس نے اپنی شاعری
قیامِ یورپ اور علامہ اقبالؒ کی ماہیت قلبی
علامہ اقبال ۱۹۰۵ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ تشریف لے گئے۔ اگرچہ ہندوستان سے ایم اے پاس کر کے گئے تھے پھر بھی یورپی درس گاہوں کی ضرورت کے مطابق انھوں نے ٹرنٹی کالج سے ۱۹۰۶ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۰۸ میں انھوں نے مڈل ٹمپل( Middle Temple) سے
آسٹریلیا کا دیہی طرزِ حیات
میں جب بھی شہر کی گہما گہمی سے اُکتاتا ہوں تو آسٹریلیا کے کسی دیہی علاقے کا رُخ کرتا ہوں ۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبات بلکہ گاؤں میں بھی ہوٹل دستیاب ہیں ۔ جدید سہولتوں کے باوجود گاؤں کی زندگی اب بھی زیادہ نہیں بدلی۔ بلکہ صدیوں پرانی طرز پر قائم ہے ۔ وسیع
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایّام تو
میں استنبول میں سلطنتِ عثمانیہ کے سب سے آخری حکمران عبدالحمید ثانی کے محل دولمہ باغچہ(Dolmabahçe Palace) کی صدر گزر گاہ جو بذاتِ خودفن تعمیر کا نادرشاہکار ہے،سے گزر کر اندر داخل ہوا تو رنگوں بھرا باغیچہ دیکھ کر جیسے میری آنکھیں چندھیا سی گئیں۔مختلف
خوشبوکی شاعرہ ، پروین شاکر کی یادیں
تیس دسمبر کی شام جب نیا سال صرف ایک دن کے فاصلے پر تھا اور پوری دُنیا کی توجہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاندار آتش بازی کی طرف تھی، ہم اسی سنہرے ساحلوں والے شہر سڈنی میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائے بیٹھے تھے۔ اس تقریب کا مہمان ِخاص اُردو کی معروف ترین
علامہ اقبال کا نظریہ خودی
حکیم الامّت حضرت علامہ اقبال ؒکے فکر و فلسفے کا مرکزی نکتہ اور جوہر ِکلام اُن کانظریہِ خودی ہے۔ ان کی فکر اور فلسفے کے دیگر مباحث اس نظریے کے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا فلسفہ حیات بھی یہی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کی تشریح اور توضیح آسان نہیں ہے۔ جس
علامہ اقبالؒ کی مخالفت کی وجوہات
شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبالؒ اپنی حیات میں ہی جہاں برصغیر کی عوام کی آنکھوں کا تارا بنے رہے اور پوری دنیا میں نام اور شہرت کمائی وہاں دنیا کے دیگر عظیم لوگوں کی طرح ان کی بھی مخالفت ہوئی اور الزام تراشیوں کاسامنا کرنا پڑا بلکہ کفر کا فتویٰ بھی سہنا پڑا۔مخالفت
میں فکراقبال سے کیسے رُوشنا س ہوا
کلام ِ قبال سے میرے ربط و ضبط کا آغاز لڑکپن سے ہو گیا تھا ۔ بلکہ شعرو سخن کی جانب میری رغبت میں کلامِ اقبال کا اہم کردار تھا ۔ ابتدائی جماعتوں میں دُعا، لب پہ آتی ہے دُعا، ایک گائے اور بکری، ہمدردی اور پہاڑ اور گلہری، جیسی نظموں سے یہ شوق پروان چڑھا
نیکی کسی کی میراث نہیں ہے
میں اور میری اہلیہ ۲۰۱۳میں آسٹریلیا سے فریضہِ حج ادا کرنے کے لئے گئے۔ اس غرض سے ہمیں پاسپورٹ، تصاویر، حفاظتی ٹیکے لگوانے کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ، نکاح نامے کی تصدیق اور کسی امام مسجد سے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں ایک ہندو
زبان یار من ترکی
میں استنبول کے معروف تاریخی مقام تقسیم چوک پر کافی دیر سے کھڑا خالی ٹیکسی کا منتظر تھا۔ سیاحوں سے اٹے اس علاقے میں خالی ٹیکسی ملنا ناممکن نہیں تو خاصا مشکل تھا۔ شام کے مصروف اوقات میں ایک ٹیکسی خالی ہوتی تو کئی مسافر اس کی جانب لپکتے۔ استنبول کے ٹیکسی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
