- کتاب فہرست 179635
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
وسیم حیدر ہاشمی کے افسانے
پتلی گلی
ایک شخص جہیز میں ملی نئی موٹرسائکل پر سوار برق رفتاری سے اڑا جا رہا تھا۔ گاڑی پر ابھی نمبر تک نہیں پڑا تھا۔ سامنے مجمعہ دیکھ کر اس نے گاڑی کی رفتار کم کر دی۔ اس بھیڑ میں عوام کے ساتھ چند پولس والوں کو دیکھ کر اس کا دماغ ٹھنا۔ اسے یہ سمجھتے دیر نہیں لگی
مریخ کا سفر
جس روز سے یہ خبر آئی ہے کہ مریخ پر بھی ہم جیسی ہی مخلوق آباد ہیں، ساری دنیا میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ رکشہ والے سے لے کر پروفیسر اور سائکل کا پنچر بنانے والے سے ہوائی جہاز بنانے والے تک، گو کہ ہر کس و ناکس ایسا مسرور نظر آ رہا تھا جیسے مدتوں بعد
فتح نامہ
اگر اس مقام کی چوحدی کا ذکر مقصود ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ ایک جانب ایسا بھیانک جنگل کہ جس سے روز روشن میں بھی انسان کا صحیح و سلامت گزر سکنا قرین قیاس نہیں اور دوسری جانب جوش سے ٹھاٹیں مارتا نیلگوں دریا۔ اس کے علاوہ حد نظر تک بے آب و گیاہ چٹیل ریتیلا
دل لگی
ریل گاڑی کی بتدریج سست ہوتی رفتار کے ساتھ اس کے سامان سمیٹنے کی رفتار تیز ہو گئی۔ گاڑی آہستہ آہستہ دہرادون کے اسٹیشن پر رک گئی۔ وہ ابھی اپنا سامان پوری طرح سے سمیٹ بھی نہیں پایا تھا کہ اس کے کان میں ’’گڈ مارننگ سعیدؔ‘‘ کی صدا آئی تو وہ سامان چھوڑ کر
دل دریا
’’عجیب بیوقوف آدمی ہے شانتنوبھی۔‘‘ اس کے بارے میں اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کی یہی رائے تھی ۔حقیقتاً اس کی خصلت عجیب تھی۔ فلاں کام انجام دینے کی صلاحیت اس میں ہے یا نہیں ،یہ سوچنے کی زحمت تو وہ گوارا کرتا ہی نہیں تھا۔ کوئی بھی کام، خواہ اپنوں کا ہو
سلام روستائی
سفر مختصر ہو یا طولانی، ہر معقول شخص اس کے پرہیز کی کوشش ضرور کرتا ہے پھر بھی ریل گاڑیوں اور بسوں وغیرہ کی حالت کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ سفر کرنا بیشتر افراد کے لیے ناگزیر ہے۔ ناقابل برداشت گرمی ہو یا ہڈیاں جما دینے والی ٹھنڈ، کسی بھی بس یا ریل
پنڈت گیا پرشاد کی گائے
پنڈت گیا پرشاد کی نوکری لگنے کے بعد وہ ثم شہری ہو گئے تھے مگر کھیت کھلیان، باغ بن اور نہر تالاب کا موہ نہیں چھوڑ سکے تھے۔ سرکاری نوکری میں انھیں جو کواٹر ملا تھا، اتفاقاً اس کے ارد گرد کئی ایسے پڑوسی بسے تھے جن کا تعلق بھی دیہات سے ہی تھا چنانچہ یہاں
فسادیوں کا مذہب
ہرچند کہ راحیل اور شمون کو ہندو مذہب سے کچھ لینا دینا نہ تھا مگر اپنی بیوی کے اصرار پر اسے شہر کی مشہور ’رام لیلا‘ دکھلانے نکلا تھا۔زیادہ ٹھنڈ کے باعث طے شدہ صراحت کے مطابق انھیں زیادہ رات ہونے سے قبل گھر واپس لوٹ جانا تھا۔ تمام دوپہر ان دونوں نے مارکیٹِنگ
سڑاند
راجن اپنی ناک پر رومال رکھے، آنکھ کے کونے سے بائیں جانب کراہت سے دیکھتا ہوا گھر سے باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار صاف نمایاں تھے۔ وہ بڑبڑاتا ہوا چوراہے کی طرف چل دیا۔ ’’عجیب حال ہے نگر پالیکا والوں کا بھی۔ صفائی کا لمبا چوڑا عملہ رکھتے ہیں،
سمجھوتا
اتوار کی چھٹی کا دن تھا۔صبح سے رم جھم بارش ہونے کی وجہ سے موسم سہانا ہو گیا تھا۔ سنتوشؔ کی فرمائش پر آج اس کی بیوی نے پھلکیاں تلی تھیں اور سب خوب مزے لے لے کر کھا رہے تھے کہ اچانک صدر دروازے پر دستک ہوئی تو دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
