آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

حنیف ترین

آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

    درد کا رشتہ اپنی آن نہیں کھوتا

    بستی کے حساس دلوں کو چبھتا ہے

    سناٹا جب ساری رات نہیں ہوتا

    من نگری میں دھوم دھڑکا رہتا ہے

    میرا میں جب میرے ساتھ نہیں ہوتا

    بن جاتے ہیں لمحے بھی کتنے سنگین

    وقت کبھی جب اپنا بوجھ نہیں ڈھوتا

    رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ہیں

    جب بھی اپنا سایہ ساتھ نہیں ہوتا

    دل کو حنیفؔ ادھار نہیں ملتا جب تک

    آنکھوں کا پتھریلا درد نہیں روتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY