آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے

اعتبار ساجد

آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے

    اب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے

    پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھے

    رگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے

    طاری ہے تمناؤں پہ سکرات کا عالم

    ہر سانس رفاقت کی تمنائی تو اب ہے

    کل تک مری وحشت سے فقط تم ہی تھے آگاہ

    ہر گام پہ اندیشۂ رسوائی تو اب ہے

    کیا جانے مہکتی ہوئی صبحوں میں کوئی دل

    شاموں میں کسی درد کی رعنائی تو اب ہے

    دل سوز یہ تارے ہیں تو جاں سوز یہ مہتاب

    در اصل شب انجمن آرائی تو اب ہے

    صف بستہ ہیں ہر موڑ پہ کچھ سنگ بکف لوگ

    اے زخم ہنر لطف پذیرائی تو اب ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 40)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY