اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

مجروح سلطانپوری

اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

    اسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریں

    فریب کھا کے ان آنکھوں کا کب تلک اے دل

    شراب خام پئیں رقص نا تمام کریں

    غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ

    تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں

    نہ مانگوں بادۂ گلگوں سے بھیک مستی کی

    اگر ترے لب لعلیں مرا یہ کام کریں

    نہ دیکھیں دیر و حرم سوئے رہروان حیات

    یہ قافلے تو نہ جانے کہاں قیام کریں

    ہیں اس کشاکش پیہم میں زندگی کے مزے

    پھر ایک بار کوئی سعئ نا تمام کریں

    سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی

    پیام زیرلبی کو صلائے عام کریں

    غلام رہ چکے توڑیں یہ بند رسوائی

    کچھ اپنے بازوئے محنت کا احترام کریں

    زمیں کو مل کے سنواریں مثال روئے نگار

    رخ نگار سے روشن چراغ بام کریں

    پھر اٹھ کے گرم کریں کاروبار زلف و جنوں

    پھر اپنے ساتھ اسے بھی اسیر دام کریں

    مری نگاہ میں ہے ارض ماسکو مجروحؔ

    وہ سرزمیں کہ ستارے جسے سلام کریں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY