اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

شاد عظیم آبادی

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

    زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

    مژدہ اے روح تجھے عشق سا دم ساز آیا

    نکبت فقر گئی شاہ سرافراز آیا

    پاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیا

    ہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا

    پیتے پیتے تری اک عمر کٹی اس پر بھی

    پینے والے تجھے پینے کا نہ انداز آیا

    دل ہو یا روح و جگر کان کھڑے سب کے ہوئے

    عشق آیا کہ کوئی مفسدہ پرداز آیا

    لے رہا ہے در مے خانہ پہ سن گن واعظ

    رندو ہشیار کہ اک مفسدہ پرداز آیا

    دل مجبور پہ اس طرح سے پہنچی وہ نگاہ

    جیسے عصفور پہ پر تول کے شہباز آیا

    کیوں ہے خاموش دلا کس سے یہ سرگوشی ہے

    موت آئی کہ ترے واسطے ہم راز آیا

    دیکھ لو اشک تواتر کو نہ پوچھو مرا حال

    چپ رہو چپ رہو اس بزم میں غماز آیا

    اس خرابے میں تو ہم دونوں ہیں یکساں ساقی

    ہم کو پینے تجھے دینے کا نہ انداز آیا

    نالہ آتا نہیں کن رس ہے فقط اے بلبل

    مرد سیاح ہوں سن کر تری آواز آیا

    دل جو گھبرائے قفس میں تو ذرا پر کھولوں

    زور اتنا بھی نہ اے حسرت پرواز آیا

    دیکھیے نالۂ دل جا کے لگائے کس سے

    جس کا کھٹکا تھا وہی مفسدہ پرداز آیا

    مدعی بستہ زباں کیوں نہ ہو سن کر مرے شعر

    کیا چلے سحر کی جب صاحب اعجاز آیا

    رند پھیلائے ہیں چلو کو تکلف کیسا

    ساقیا ڈھال بھی دے جام خدا ساز آیا

    نہ گیا پر نہ گیا شمع کا رونا کسی حال

    گو کہ پروانۂ مرحوم سا دم ساز آیا

    ایک چپکی میں گلو تم نے نکالے سب کام

    غمزہ آیا نہ کرشمہ نہ تمہیں ناز آیا

    دھیان رہ رہ کے ادھر کا مجھے دلواتا ہے

    دم نہ آیا مرے تن میں کوئی دم ساز آیا

    کس طرح موت کو سمجھوں نہ حیات ابدی

    آپ آئے کہ کوئی صاحب اعجاز آیا

    بے انیسؔ اب چمن نظم ہے ویراں اے شادؔ

    ہائے ایسا نہ کوئی زمزمہ پرداز آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites