اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار

عادل منصوری

اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار

    اک شخص چیختا ہے سمندر کے آر پار

    آنکھوں سے راہ نکلی ہے تحت الشعور تک

    رگ رگ میں رینگتا ہے سلگتا ہوا خمار

    گرتے رہے نجوم اندھیرے کی زلف سے

    شب بھر رہیں خموشیاں سایوں سے ہمکنار

    دیوار و در پہ خوشبو کے ہالے بکھر گئے

    تنہائی کے فرشتوں نے چومی قبائے یار

    کب تک پڑے رہو گے ہواؤں کے ہاتھ میں

    کب تک چلے گا کھوکھلے شبدوں کا کاروبار

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصار نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے