اے بجھے رنگوں کی شام اب تک دھواں ایسا نہ تھا

راجیندر منچندا بانی

اے بجھے رنگوں کی شام اب تک دھواں ایسا نہ تھا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    اے بجھے رنگوں کی شام اب تک دھواں ایسا نہ تھا

    آج گھر کی چھت سے دیکھا آسماں ایسا نہ تھا

    کب سے ہے گرتے ہوئے پتوں کا منظر آنکھ میں

    جانے کیا موسم ہے خوابوں کا زیاں ایسا نہ تھا

    کوئی شے لہرا ہی جاتی تھی فصیل شب کے پار

    دور افق میں دیکھنا کچھ رائیگاں ایسا نہ تھا

    پیڑ تھے سائے تھے پگڈنڈی تھی اک جاتی ہوئی

    کیا یہ سب کچھ خواب تھا سچ مچ یہاں ایسا نہ تھا

    فاصلہ کم کرنے والے راستے شاید نہ تھے

    اب تو لگتا ہے سفر ہی درمیاں ایسا نہ تھا

    دل کہ تھا مائل بہت ویراں جزیروں کی طرف

    یہ ہوا ایسی نہ تھی یہ بادباں ایسا نہ تھا

    کوئی گوشہ خواب کا سا ڈھونڈ ہی لیتے تھے ہم

    شہر اپنا شہر بانیؔ بے اماں ایسا نہ تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    speakNow