اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

جگر مراد آبادی

اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

جگر مراد آبادی

MORE BY جگر مراد آبادی

    اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

    تجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہے

    عاشق کی بے دلی کا تغافل نہیں جواب

    اس کا بس ایک جوش محبت جواب ہے

    تیری عنایتیں کہ نہیں نذر جاں قبول

    تیری نوازشیں کہ زمانہ خراب ہے

    اے حسن اپنی حوصلہ افزائیاں تو دیکھ

    مانا کہ چشم شوق بہت بے حجاب ہے

    میں عشق بے نیاز ہوں تم حسن بے پناہ

    میرا جواب ہے نہ تمہارا جواب ہے

    مے خانہ ہے اسی کا یہ دنیا اسی کی ہے

    جس تشنہ لب کے ہاتھ میں جام شراب ہے

    اس سے دل تباہ کی روداد کیا کہوں

    جو یہ نہ سن سکے کہ زمانہ خراب ہے

    اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک

    ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

    اپنے حدود سے نہ بڑھے کوئی عشق میں

    جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

    وہ لاکھ سامنے ہوں مگر اس کا کیا علاج

    دل مانتا نہیں کہ نظر کامیاب ہے

    میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر

    پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

    مانوس اعتبار کرم کیوں کیا مجھے

    اب ہر خطائے شوق اسی کا جواب ہے

    میں اس کا آئینہ ہوں وہ ہے میرا آئینہ

    میری نظر سے اس کی نظر کامیاب ہے

    تنہائی فراق کے قربان جائیے

    میں ہوں خیال یار ہے چشم پر آب ہے

    سرمایۂ فراق جگرؔ آہ کچھ نہ پوچھ

    اب جان ہے سو اپنے لیے خود عذاب ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY