اے یاس جو تو دل میں آئی سب کچھ ہوا پر کچھ بھی نہ ہوا

حقیر

اے یاس جو تو دل میں آئی سب کچھ ہوا پر کچھ بھی نہ ہوا

حقیر

MORE BY حقیر

    اے یاس جو تو دل میں آئی سب کچھ ہوا پر کچھ بھی نہ ہوا

    یاں ہو گئی خانہ ویرانی اور تیرا ضرر کچھ بھی نہ ہوا

    تھا قصد کہ ان کو روکیں گے شب گزری انہیں اندیشوں میں

    پر ہائے رے ناکامی دل کی ہنگام سحر کچھ بھی نہ ہوا

    احسان ترا مجھ پر ہوتا گر روح کو کرتا تن سے جدا

    جب جان بچی فرقت کی شب اے درد جگر کچھ بھی نہ ہوا

    اے کاش وہ باتیں کی ہوتیں جو وحشت دل کو کم کرتیں

    اتنا جو بکا تو اے ناصح مجھ کو تو اثر کچھ بھی نہ ہوا

    اب چاہئے ایسی فکر تجھے جس سے کہ نظارے کی ٹھہرے

    ہر وقت کے رونے سے حاصل اے دیدۂ تر کچھ بھی نہ ہوا

    دل اور جگر جاں اور یہ سر ہم شوق سے لائے پاس ترے

    قسمت کا گلہ اب کس سے کریں منظور نظر کچھ بھی نہ ہوا

    یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا

    بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا

    دھن وصل کی تجھ پر غالب ہے تو عیش و طرب کا طالب ہے

    کیا لطف حقیرؔ اس الفت کا بیتاب اگر کچھ بھی نہ ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY