ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

خمارؔ بارہ بنکوی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

خمارؔ بارہ بنکوی

MORE BYخمارؔ بارہ بنکوی

    ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

    جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

    ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید

    وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

    سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا

    دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

    کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا

    جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

    ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے

    دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

    پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے

    پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

    چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا

    آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی

    اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ

    اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    چھایا گانگولی

    چھایا گانگولی

    RECITATIONS

    خمارؔ بارہ بنکوی

    خمارؔ بارہ بنکوی

    خمارؔ بارہ بنکوی

    ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی خمارؔ بارہ بنکوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY