اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

عارف شفیق

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

عارف شفیق

MORE BYعارف شفیق

    اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

    یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل

    سورج سے اپنے بچھڑی ہوئی اک کرن ہے تو

    تیرا نصیب جسم کے برفاب سے نکل

    تو مٹی پانی آگ ہوا میں ہے قید کیوں

    ہونے کا دے جواز تب و تاب سے نکل

    پھولوں میں چاند تاروں میں سورج میں اس کو دیکھ

    ان پتھروں کے منبر و محراب سے نکل

    مرجھا نہ جائے دیکھ کہیں روح کا گلاب

    فانی جہاں کی وادئ شاداب سے نکل

    بن کے جزیرہ ابھرے گا کردار خود ترا

    خوش رنگ خواہشوں کے تو سیلاب سے نکل

    کہتی ہیں مجھ سے سوچ سمندر کی وسعتیں

    عارفؔ تو اپنی ذات کے تالاب سے نکل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY