انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

نظام رامپوری

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

نظام رامپوری

MORE BYنظام رامپوری

    انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

    دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ

    بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں

    کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

    یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر

    اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

    بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا

    ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

    گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں

    اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ

    وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے

    اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ

    قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا

    گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

    اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے

    سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ

    وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے

    وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

    دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے

    گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ

    پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں

    باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ

    کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں

    بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

    پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں

    پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

    دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ

    منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    پنکج اداس

    پنکج اداس

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY