بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

بیخود دہلوی

بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

بیخود دہلوی

MORE BYبیخود دہلوی

    بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

    مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

    تم کو الفت نہیں مجھ سے یہ کہا تھا میں نے

    ہنس کے فرماتے ہیں تم اپنی محبت دے دو

    ہم ہی چوکے سحر وصل منانا ہی نہ تھا

    اب ہے یہ حکم کہ جانے کی اجازت دے دو

    مفت لیتے بھی نہیں پھیر کے دیتے بھی نہیں

    یوں سہی خیر کہ دل کی ہمیں قیمت دے دو

    کم نہیں پیر خرابات نشیں سے بیخودؔ

    مے کشو تو اسے مے خانے کی خدمت دے دو

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-Sukhan(Jild-2) (Pg. 175)
    • Author : Hasrat Mohani
    • مطبع : uttar pradesh urdu academy (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY