بات میری کبھی سنی ہی نہیں

داغؔ دہلوی

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

داغؔ دہلوی

MORE BYداغؔ دہلوی

    بات میری کبھی سنی ہی نہیں

    جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں

    دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں

    رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

    لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد

    ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

    اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

    کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

    جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں

    تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

    ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے

    پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

    ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں

    یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں

    دل لگی دل لگی نہیں ناصح

    تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

    داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا

    وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    RECITATIONS

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم,

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    جاوید نسیم

    بات میری کبھی سنی ہی نہیں جاوید نسیم

    نعمان شوق

    بات میری کبھی سنی ہی نہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے