باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں

کمال احمد صدیقی

باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں

کمال احمد صدیقی

MORE BYکمال احمد صدیقی

    باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں

    ان میں سے ایک بھی تو نہیں ہے کتاب میں

    محرومیوں نے بزم سجائی ہے خواب میں

    سب کے الگ الگ ہیں مناظر سراب میں

    پانی کی طرح اہل ہوس نے شراب پی

    لکھی گئی ہے تشنہ لبوں کے حساب میں

    سب نام ہیں درست مگر واقعہ غلط

    ہر بات سچ نہیں جو لکھی ہے کتاب میں

    صد آتشہ اگر ہو ترا رنگ روپ ہے

    جو رنگ پھول میں ہے نشہ ہے شراب میں

    اس کا تو ایک لفظ بھی ہم کو نہیں ہے یاد

    کل رات ایک شعر کہا تھا جو خواب میں

    کچھ شعر شاید اس کو پسند آ گئے کمالؔ

    ہونٹوں کے کچھ نشاں ہیں تمہاری کتاب میں

    مأخذ :
    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 299)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY