بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی

اعتبار ساجد

بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی

    سہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھی

    جدائیوں کی خلش اس نے بھی نہ ظاہر کی

    چھپائے اپنے غم و اضطراب میں نے بھی

    دیئے بجھا کے سر شام سو گیا تھا وہ

    بتائی سو کے شب ماہتاب میں نے بھی

    یہی نہیں کہ مجھے اس نے درد ہجر دیا

    جدائیوں کا دیا ہے جواب میں نے بھی

    کسی نے خون میں تر چوڑیاں جو بھیجی ہیں

    لکھی ہے خون جگر سے کتاب میں نے بھی

    خزاں کا وار بہت کار گر تھا دل پہ مگر

    بہت بچا کے رکھا یہ گلاب میں نے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY