بجائے ہم سفری اتنا رابطہ ہے بہت

راجیندر منچندا بانی

بجائے ہم سفری اتنا رابطہ ہے بہت

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    بجائے ہم سفری اتنا رابطہ ہے بہت

    کہ میرے حق میں تری بے ضرر دعا ہے بہت

    تھی پاؤں میں کوئی زنجیر بچ گئے ورنہ

    رم ہوا کا تماشا یہاں رہا ہے بہت

    یہ موڑ کاٹ کے منزل کا عکس دیکھو گے

    اسی جگہ مگر امکان حادثہ ہے بہت

    بس ایک چیخ ہی یوں تو ہمیں ادا کر دے

    معاملہ ہنر حرف کا جدا ہے بہت

    مری خوشی کا وہ کیا کیا خیال رکھتا ہے

    کہ جیسے میری طبیعت سے آشنا ہے بہت

    تمام عمر جنہیں ہم نے ٹوٹ کر چاہا

    ہمارے ہاتھوں انہیں پر ستم ہوا ہے بہت

    ذرا چھوا تھا کہ بس پیڑ آ گرا مجھ پر

    کہاں خبر تھی کہ اندر سے کھوکھلا ہے بہت

    کوئی کھڑا ہے مری طرح بھیڑ میں تنہا

    نظر بچا کے مری سمت دیکھتا ہے بہت

    یہ احتیاط کدہ ہے کڑے اصولوں کا

    ذرا سے نقص پہ بانیؔ یہاں سزا ہے بہت

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 78)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے